LIVE
Loading Breaking News...

پی پی پی اور ن لیگ میں کشیدگی، میرپور انتخابات پر فارم 47 کا تنازع

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے نتائج پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر شدید تنقید کی ہے۔ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے میرپور میں دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد اور مظفرآباد کے سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ ن (ن لیگ) کے درمیان آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابی نتائج پر لفظی جنگ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے میرپور میں مبینہ دھاندلی کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اس عمل میں ملوث نہیں ہیں تو فوری طور پر دوبارہ پولنگ کا انعقاد کریں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومتی عہدے عوامی مینڈیٹ یا کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ فارم 47 کی دین ہیں۔ یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ن لیگ نے میرپور ڈویژن کی تیرہ میں سے نو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ دوسری طرف مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ دھاندلی کے فن کی ماہر پارٹی اب شور مچا رہی ہے اور انہوں نے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی؟ اس طنز کا جواب دیتے ہوئے پی پی پی کے رہنما شرجیل می mencionado نے کہا کہ قیامت تو 2024 میں ہی آ گئی تھی جب مینڈیٹ خیرات میں تقسیم کیے جا رہے تھے۔ اس دوران آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے باضابطہ طور پر پہلے مرحلے کے کامیاب تیرہ امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں جن میں ن لیگ کے نو اور پی پی پی کے چار امیدوار شامل ہیں۔ بلاول بھٹو نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ ن ہمیشہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے اور ان کی پارٹی کشمیری عوام کا مینڈیٹ چرانے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایسے تیس پولنگ سٹیشنوں کی ویڈیو شواہد موجود ہیں جہاں مبینہ طور پر دھاندلی کی گئی اور ٹرن آؤٹ غیر معمولی طور پر نوے فیصد دکھایا گیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ اپنا ایک ایک چوری شدہ ووٹ واپس لیں گے اور اگر مینڈیٹ چوری کیا جائے گا تو وہ ان نتائج کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر آزاد کشمیر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے سچائی اور مصالحت کمیشن بنانے کی اپنی تجویز کو بھی دہرایا تاکہ خطے میں سیاسی استحکام اور امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔