LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں احتجاج اور دہشت گردی کے قوانین کا تنازع

News Image
برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے دائرہ کار میں مسلسل توسیع سے سیاسی اختلاف رائے اور احتجاج کو دہشت گردی کے زمرے میں لایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ طرز عمل جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
برطانیہ میں حال ہی میں نافذ کیے جانے والے انسداد دہشت گردی کے وسیع تر قوانین ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان قوانین کے دائرہ کار کو جس تیزی سے بڑھایا جا رہا ہے، اس سے سیاسی تشدد، احتجاج اور جمہوری اختلاف رائے کے مابین فرق تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاسی کارکنوں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی خدشات کا باعث ہے جو پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں دہشت گردی کے قوانین کا اطلاق مخصوص اور انتہائی خطرناک نوعیت کے پرتشدد واقعات تک محدود تھا، لیکن اب قانونی ترامیم کے ذریعے احتجاج کرنے والوں کو بھی ان قوانین کی لپیٹ میں لایا جا سکتا ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ برطانوی ریاست احتجاج کو 'سیاسی تشدد' کا نام دے کر دراصل عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح کی قانون سازی سے نہ صرف آزادیِ اظہار کا حق متاثر ہو رہا ہے بلکہ برطانوی جمہوریت کے ان بنیادی اصولوں پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے جو شہریوں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا حق دیتے ہیں۔ اس نئے قانونی فریم ورک کے تحت احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے افراد پر دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے معاشرے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ سول سوسائٹی کے ارکان کا موقف ہے کہ جب احتجاج کو دہشت گردی کے مساوی سمجھا جانے لگے گا تو پرامن طریقے سے تبدیلی لانے کا جمہوری راستہ بند ہو جائے گا۔ یہ صورتحال برطانیہ کے تاریخی جمہوری کردار کے برعکس ہے، جہاں احتجاج کو ہمیشہ ایک صحت مند معاشرے کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ مستقبل میں یہ قوانین مزید سخت ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش میں مبتلا ہیں۔ حکومت کا استدلال ہے کہ قومی سلامتی کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں، تاہم سول سوسائٹی اس بات پر بضد ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کی قربانی کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا برطانوی حکومت ان قوانین پر نظر ثانی کرے گی یا احتجاج کرنے والوں کے لیے قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھتی جائیں گی۔