Pakistan
عراق میں قید پاکستانی نوجوانوں پر تشدد کا انکشاف
عراق میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے پاکستانی نوجوان انسانی اسمگلنگ کے چنگل میں پھنس کر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مقامی حراستی مراکز میں ان نوجوانوں پر انسانیت سوز تشدد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے متعدد پاکستانی نوجوان عراق کے مختلف حراستی مراکز میں بدترین تشدد اور غیر انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان روزگار کی تلاش میں غیر قانونی ذرائع کا سہارا لے کر عراق پہنچے تھے، جہاں انہیں منظم گروہوں نے دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں مقامی حکام کی جانب سے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور انہیں سخت جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت انتہائی تشویشناک ہے۔
اس صورتحال نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی موجودگی پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اسمگلرز یہ نوجوانوں کو یورپ بھجوانے کے جھوٹے خواب دکھا کر بھاری رقوم بٹورتے ہیں اور انہیں انتہائی خطرناک راستوں سے عراق جیسے ممالک میں چھوڑ دیتے ہیں۔ عراقی حکام کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران ان پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا، جن کے پاس سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس کے بعد وہ ان حراستی مراکز میں قید کر دیے گئے۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومتِ پاکستان اور وزارتِ خارجہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ عراقی حکام کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطہ کریں تاکہ ان نوجوانوں کی جلد از جلد بازیابی اور وطن واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے اور بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو فوری قانونی مدد فراہم کی جائے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ حکام جلد ہی اس معاملے کا نوٹس لیں گے اور پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے ان قیدیوں کی حالت زار کا جائزہ لیا جائے گا۔ فی الحال یہ نوجوان بے بسی کی حالت میں اپنے گھر واپسی کے منتظر ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ سخت ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ حکومت کو نہ صرف ان نوجوانوں کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں بلکہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک جامع حکمت عملی بھی اپنانی ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی اور نوجوان کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔