LIVE
Loading Breaking News...

پروفیسر ڈیوڈ موہریگ کی جیکسن اسکول سے ریٹائرمنٹ

News Image
جیولوجیکل سائنسز کے نامور پروفیسر ڈیوڈ موہریگ نے جیکسن اسکول آف جیو سائنسز میں دو دہائیوں پر محیط اپنی شاندار تعلیمی خدمات کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ وہ اپنے تحقیقی کام اور طلباء کی رہنمائی کے حوالے سے علمی حلقوں میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔
آسٹن، ٹیکساس: جیکسن اسکول آف جیو سائنسز کے شعبہ ارتھ اینڈ پلینیٹری سائنسز کے ممتاز پروفیسر ڈیوڈ موہریگ نے 20 سال تک مسلسل خدمات انجام دینے کے بعد باضابطہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ 15 اگست کو اپنی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی انہوں نے تعلیمی و تدریسی شعبے میں دو دہائیوں پر محیط اپنے شاندار کیریئر کا اختتام کیا، جس کے دوران انہوں نے نہ صرف ایک محقق کے طور پر بلکہ ایک استاد اور منتظم کے طور پر بھی اپنی گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ پروفیسر موہریگ کی تعلیمی زندگی کا یہ سفر علمی بصیرت اور جدت سے بھرپور رہا ہے۔ انہوں نے اپنے طویل دورانیے میں ارضیاتی سائنس کے شعبے میں تحقیق کے نئے در وا کیے اور سینکڑوں طلباء کی ایسی رہنمائی کی جو آج مختلف عالمی اداروں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھیوں اور طلباء کے مطابق، وہ ایک ایسے استاد تھے جو مشکل ترین سائنسی تصورات کو انتہائی آسان اور دلچسپ انداز میں سمجھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ انتظامی امور میں بھی ان کا کردار کلیدی رہا اور انہوں نے اسکول کی ترقی کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ جیکسن اسکول کی انتظامیہ نے پروفیسر موہریگ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سبکدوشی سے اسکول میں ایک خالی جگہ پیدا ہوگئی ہے، تاہم ان کے زیر سایہ تیار ہونے والے ماہرین ارضیات آنے والے برسوں میں ان کے کام کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔ پروفیسر موہریگ کے رفقائے کار نے ان کے ساتھ گزارے گئے برسوں کو علمی تعاون اور باہمی احترام کا حسین امتزاج قرار دیا ہے۔ ان کے ریٹائر ہونے پر شعبہ ارتھ سائنسز میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ واضح رہے کہ پروفیسر ڈیوڈ موہریگ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی علمی سرگرمیوں سے وابستہ رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کی تجربہ کار شخصیت اور سائنسی بصیرت آنے والے طالبعلموں کے لیے مشعل راہ رہے گی۔ ان کی ریٹائرمنٹ سے ایک باب تو بند ہوا ہے لیکن ان کی چھوڑی ہوئی علمی میراث آنے والے وقتوں میں بھی جیو سائنسز کے شعبے میں تحقیق کے لیے ایک اہم حوالہ بنی رہے گی۔