LIVE
Loading Breaking News...

الیکٹرک بائیک کا مستقبل: تیز رفتار بائیکس یا چھوٹی سواریاں؟

News Image
الیکٹرک بائیک انڈسٹری میں رفتار اور طاقت کی اندھی دوڑ نے صارفین کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتار بائیکس کے بجائے شہری ضروریات کے مطابق محفوظ اور چھوٹی الیکٹرک سواریوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران الیکٹرک بائیک کی صنعت میں ایک عجیب قسم کی دوڑ دیکھی جا رہی ہے، جیسے کوئی ہتھیاروں کا مقابلہ ہو۔ ہر نئی لانچ کے ساتھ کمپنیاں زیادہ رفتار، زیادہ طاقتور بیٹریوں اور موٹر سائیکل جیسی جسامت کی مارکیٹنگ کر رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مینوفیکچررز کا واحد ہدف بائیک کو جتنا ممکن ہو سکے اتنا تیز اور بھاری بنانا ہے، لیکن یہ حکمت عملی اب شہری ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ ٹریفک ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ جیسے ممالک میں جہاں سڑکوں کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، وہاں ایسی تیز رفتار مشینوں کی ضرورت نہیں جو خود ایک نئی سکیورٹی رسک بن جائیں۔ اس وقت ای-بائیک انڈسٹری اس حقیقت کو نظر انداز کر رہی ہے کہ ایک عام شہری کو دفتر یا خریداری کے لیے جانے کے لیے موٹر سائیکل جیسی رفتار کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اسے ایک ایسی سواری درکار ہے جو آرام دہ، محفوظ اور استعمال میں آسان ہو۔ موجودہ رجحان کے تحت جب بائیکس کی رفتار بڑھائی جاتی ہے تو نہ صرف ان کے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ سائیکل ٹریکس پر چلنے والے دیگر افراد کے لیے بھی راستے تنگ ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کمپنیاں اپنی توجہ 'سپیڈ' سے ہٹا کر 'افادیت' اور 'کمپیکٹ ڈیزائن' پر مرکوز کریں۔ بہتر چھوٹی الیکٹرک سواریاں، جیسے کہ فولڈنگ بائیکس یا ہلکی پھلکی الیکٹرک سکوٹرز، شہری نقل و حمل کے مسائل کا زیادہ دیرپا حل پیش کرتی ہیں۔ یہ سواریاں نہ صرف کم جگہ گھیرتی ہیں بلکہ انہیں گھر یا دفتر کے اندر لے جانا بھی ممکن ہوتا ہے، جس سے چوری کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، ہلکی سواریوں کے لیے چارجنگ کا انفراسٹرکچر بنانا بھی زیادہ آسان ہے کیونکہ انہیں کسی بڑے پاور اسٹیشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر الیکٹرک بائیک انڈسٹری کو کامیابی کے ساتھ طویل عرصے تک برقرار رہنا ہے، تو اسے 'زیادہ سے زیادہ طاقت' کے تصور کو ترک کر کے 'زیادہ سے زیادہ سہولت' کی طرف آنا ہوگا۔ صارفین کو ایسی سواریوں کی ضرورت ہے جو سستی ہوں، دیرپا ہوں اور جنہیں چلانے کے لیے کسی ہیوی بائیک جیسی احتیاطی تدابیر کی ضرورت نہ ہو۔ اگر کمپنیاں اس جانب توجہ نہیں دیتی ہیں تو آنے والے دنوں میں ان تیز رفتار بائیکس کے خلاف سخت قوانین کا نفاذ ناگزیر ہو جائے گا، جو اس پوری صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔