Technology
سوشل میڈیا پر بچوں کی حفاظت: نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل کا نیا لائحہ عمل
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راہول ٹوریز نے میٹا کے خلاف 900 ملین ڈالر کے مقدمے میں تاریخی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر بچوں کی حفاظت کے لیے نئے سخت قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جوابدہ بنانا اور آن لائن پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے محفوظ تر بنانا ہے۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راہول ٹوریز نے میٹا کے خلاف عدالت میں 900 ملین ڈالر کے تاریخی مقدمے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف ایک بھرپور مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت کے لیے موجودہ پالیسیوں کو مزید بہتر بنانا اور سخت تر بنانا ہے۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے صارفین، خاص طور پر کم عمر بچوں کو درپیش آن لائن خطرات کی ذمہ داری قبول کریں۔ راہول ٹوریز ریاستی قانون سازوں کے ساتھ مل کر دو اہم مسودہ قوانین پر کام کر رہے ہیں جن کا مقصد سوشل میڈیا کے استعمال کو محفوظ بنانا ہے۔ ان قوانین کے تحت کمپنیوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے الگورتھم کو شفاف بنائیں اور ایسی خصوصیات متعارف کروائیں جو بچوں کو نقصان دہ مواد سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔ اس سے قبل، عدالت میں میٹا کے خلاف فتح نے نہ صرف نیو میکسیکو بلکہ دیگر امریکی ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کی ہے کہ کس طرح ٹیک دیو کمپنیوں کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو منافع کمانے کے ساتھ ساتھ عوامی تحفظ کو بھی اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، یہ قانون سازی اگر کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پورے امریکہ میں سوشل میڈیا قوانین کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے ان خطرات سے بچائے گی جو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ آئندہ آنے والے دنوں میں ریاستی اسمبلی میں ان قوانین پر بحث متوقع ہے، جس کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں کس حد تک اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے پر آمادہ ہوتی ہیں۔ اس قانونی جنگ کا دائرہ کار اب صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پوری ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک پیغام ہے کہ اب سوشل میڈیا کے خود ساختہ قوانین کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب عوامی مفاد اور بچوں کی سلامتی کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔