Technology
ایپل کا 15 فیصد بیرونی خریداری فیس کا فیصلہ: قانونی اور کاروباری اثرات
ایپل نے ایپک گیمز کے ساتھ جاری قانونی جنگ میں سپریم کورٹ سے ریلیف نہ ملنے کے بعد اب بیرونی خریداریوں پر 15 فیصد فیس وصول کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ اقدام ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس کے قواعد و ضوابط پر ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی ایپل ایک بار پھر قانونی بحرانوں کی زد میں ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایپل نے اپنی ایپ سٹور پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہوئے بیرونی خریداریوں پر 15 فیصد تک فیس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب کمپنی ایپک گیمز کے ساتھ طویل عرصے سے جاری قانونی جنگ میں کسی بڑے ریلیف کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ عدالت نے ایپل کی جانب سے فیس کے حساب کتاب کو روکنے کی استدعا کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد اب یہ معاملہ امریکہ کی سپریم کورٹ میں اکتوبر سے شروع ہونے والے اجلاس میں سنا جائے گا۔
اس تنازعے کی جڑ دراصل اس بات پر ہے کہ آیا ایپل اپنے ایپ سٹور کے ذریعے ہونے والی تمام تر لین دین پر کمیشن لینے کا حق رکھتا ہے یا نہیں۔ ایپک گیمز نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایپل کی اجارہ داری صارفین اور ڈویلپرز دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، جبکہ ایپل کا استدلال ہے کہ یہ فیس پلیٹ فارم کی سیکیورٹی اور دیکھ بھال کے لیے ناگزیر ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، ایپل نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے درخواست کی تھی کہ جب تک سپریم کورٹ حتمی فیصلہ نہیں دیتی، فیس کے طریقہ کار کو نافذ نہ کیا جائے، تاہم عدالت نے اسے مسترد کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل کی جانب سے یہ نئی 15 فیصد فیس کی تجویز دراصل اپنے کاروباری ماڈل کو بچانے کی ایک کوشش ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ایپک گیمز کے حق میں آتا ہے تو ایپل کو اپنے پورے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں بنیادی تبدیلیاں لانا پڑ سکتی ہیں، جو کمپنی کے ریونیو پر گہرے اثرات ڈالیں گی۔ فی الحال، ٹیکنالوجی انڈسٹری اور ڈویلپرز کی نظریں اکتوبر میں ہونے والی سپریم کورٹ کی سماعت پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس فیصلے کا اثر نہ صرف ایپل بلکہ پوری ایپ سٹور معیشت پر پڑے گا۔
ایپل نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن کمپنی کے اندرونی ذرائع کے مطابق وہ اپنی پالیسیوں کو عالمی قوانین کے مطابق ڈھالنے کے لیے قانونی ٹیموں کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہے ہیں۔ آنے والے چند ماہ اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ایپل اپنے موجودہ مالیاتی ماڈل کو برقرار رکھ پائے گا یا اسے ڈویلپرز کے لیے مزید نرمی پیدا کرنی ہوگی۔