Politics
نوجوانوں کا مستقبل اور انتخابات میں شرکت کی اہمیت
موجودہ دور میں نوجوانوں کی سیاسی بے چینی کا واحد حل احتجاج کے بجائے انتخابی عمل میں فعال شرکت ہے۔ انتخابات ہی وہ واحد جمہوری ذریعہ ہیں جس کے ذریعے نوجوان اپنی آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
موجودہ دور میں نوجوان نسل میں پایا جانے والا احساس محرومی اور سیاسی بے چینی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے جہاں نوجوانوں میں شعور بیدار کیا ہے، وہیں ان کے اندر ایک مشترکہ اضطراب اور بے چینی کو بھی جنم دیا ہے۔ اکثر نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے کو اپنی آواز اٹھانے کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ صرف احتجاج کرنے سے پالیسیوں میں فوری تبدیلی نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے منظم سیاسی جدوجہد اور انتخابی عمل کا حصہ بننا انتہائی ناگزیر ہے۔
جمہوری معاشروں میں انتخابات ایک ایسا اہم ذریعہ ہیں جو کسی بھی قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا ووٹ ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب تک نوجوان پولنگ بوتھ تک جا کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کریں گے، تب تک وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے درکار قانون سازی اور پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔ سیاسی جماعتیں اور حکومتی ادارے اسی طبقے کی بات سنتے ہیں جو ووٹ کی طاقت سے انہیں اقتدار تک پہنچانے یا ہٹانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ لہذا، احتجاجی مظاہروں سے نکل کر انتخابی عمل میں شمولیت اختیار کرنا ہی نوجوانوں کے لیے درست سمت ہے۔
مزید برآں، سیاسی اتحاد کی کمی نوجوانوں کی سب سے بڑی کمزوری بنی ہوئی ہے۔ بکھرے ہوئے احتجاجی گروہوں کے بجائے ایک مضبوط اور متحد سیاسی آواز وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مقامی اور قومی سطح پر سیاسی عمل کا حصہ بنیں، انتخابی مہمات میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے شعوری طور پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں۔ جب نوجوان اپنی بڑی تعداد کے ساتھ انتخابی عمل میں شامل ہوں گے، تو حکمران طبقے کو ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔ مختصر یہ کہ احتجاج کا راستہ وقتی تسکین تو دے سکتا ہے، لیکن ایک مستحکم اور بہتر مستقبل کے لیے بیلٹ باکس کا انتخاب ہی واحد اور مؤثر راستہ ہے۔