LIVE
Loading Breaking News...

اسٹینفورڈ پروفیسر کا چین کی دفاعی یونیورسٹی میں خفیہ کام کرنے کا انکشاف

News Image
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سابق ایرو اسپیس چیف کی جانب سے چین کی حساس دفاعی یونیورسٹی میں تحقیق کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ ماہر ایف-22 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے انجن پروگراموں کی نگرانی کر چکے ہیں۔
ایک حالیہ تہلکہ خیز انکشاف میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایرو اسپیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک سابق سربراہ، جنہوں نے طویل عرصے تک امریکہ کے جدید ترین لڑاکا طیاروں ایف-22 (F-22) اور ایف-35 (F-35) کے انجن پروگراموں کی نگرانی کی تھی، خفیہ طور پر چین کی ایک انتہائی حساس دفاعی یونیورسٹی میں محققین کو تربیت فراہم کرتے رہے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سیکیورٹی خدشات پر شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مذکورہ پروفیسر نے چین کے سرکاری 'فارن ایکسپرٹیز انیشی ایٹو' کے تحت ان اداروں کا دورہ کیا جو براہ راست چینی فوج کی جدید کاری کے لیے کام کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیجنگ کس طرح غیر ملکی ماہرین کو اپنے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ایف-22 اور ایف-35 طیارے امریکی فضائی برتری کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں، اور ان کے انجنوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی انتہائی جدید اور خفیہ زمرے میں آتی ہے۔ اس انکشاف کے بعد امریکی سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ آیا اس تعاون کے نتیجے میں حساس امریکی تکنیکی معلومات چین کے دفاعی شعبے تک تو نہیں پہنچ گئیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پروفیسر 14 سال تک ان اہم پروگراموں سے منسلک رہے تھے۔ چینی یونیورسٹیوں میں ان کی موجودگی اور وہاں دی جانے والی لیکچرز اور تربیت پر اب سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ چینی حکومت عالمی تعلیمی اداروں سے وابستہ ماہرین کو اپنے 'سول ملٹری فیوژن' پروگرام کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد امریکہ میں موجود چینی تعلیمی تعاون کے پروگراموں کی جانچ پڑتال مزید سخت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اب تک اس معاملے پر متعلقہ پروفیسر یا اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کوئی تفصیلی وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اسے قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کی برآمد اور تعاون پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاکہ یہ ٹیکنالوجی مخالف ممالک کے ہاتھ نہ لگے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ قوانین کے باوجود انسانی رابطوں کے ذریعے حساس معلومات کا تبادلہ روکنا ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔