LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا نیا طویل المدتی مربوط انرجی پلان 2027-2060 منظور

News Image
وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی نے 2027 سے 2060 تک محیط طویل المدتی مربوط انرجی پلان کے ڈیزائن کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک بھر میں شہریوں کو سستی، قابل رسائی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی نے ایک اہم اجلاس کے دوران ملک کے طویل المدتی مربوط انرجی پلان کے لیے ڈیزائن رپورٹ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور مستقبل کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس نئے انرجی پلان کا دورانیہ 2027 سے شروع ہو کر 2060 تک محیط ہوگا، جس کا بنیادی ہدف پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پائیدار اور سستی بنیادوں پر پورا کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پلان کا مقصد شہریوں کو ایسی توانائی فراہم کرنا ہے جو نہ صرف قابل اعتماد ہو بلکہ عام آدمی کی پہنچ میں بھی ہو۔ اس منصوبے کے تحت پاور سیکٹر میں وسیع تر اصلاحات لانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی اور ترسیل کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔ اس طویل المدتی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو ملکی وسائل کا بہترین استعمال اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے تاکہ ملک کو مہنگی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکے۔ اجلاس کے دوران بجلی کے ترسیلی نظام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی تجاویز زیر غور لائیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ توانائی کا شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس میں اصلاحات کے ذریعے نہ صرف صنعتوں کو فروغ ملے گا بلکہ مجموعی ملکی ترقی کی رفتار میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ منصوبہ 2060 تک کے طویل اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تاکہ پاکستان مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق، اس پلان پر عملدرآمد سے ملک میں انرجی مکس کو متوازن کیا جائے گا اور بجلی کے صارفین کو ایک مستحکم نظام فراہم کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پلان پر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکے۔