Business
خلیجی اسٹاک مارکیٹس پر ایران امریکہ کشیدگی کے اثرات
مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی خطے کے مالیاتی اداروں پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔
خطے میں جاری ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور عسکری کشیدگی نے خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اکثر خلیجی منڈیوں میں مندی اور سستی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی ہے، اور وہ کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے قبل حالات کے مزید واضح ہونے کے منتظر ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق برینٹ آئل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے عبوری معاہدوں کی توسیع کو مسترد کرنا اور تنازعہ کے مزید بڑھنے کی دھمکیاں ہیں۔ آبنائے ہرمز کے قریب ٹینکرز کی نقل و حمل میں تبدیلی اور ایران کے سخت گیر موقف نے توانائی کی سپلائی چین کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ براہ راست عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہا ہے، جبکہ سونے اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہ کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو خلیجی خطے کی معیشتوں کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ خطے کے کئی ممالک اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ردعمل اب بھی ان کے بجٹ اور تجارتی توازن پر اثر ڈالتا ہے۔ موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانا ہے، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹوں میں ٹریڈنگ کا حجم محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی اور ایرانی حکام کے بیانات اور خطے میں ہونے والی نقل و حرکت پر مرکوز رہیں گی۔ مارکیٹ کی بحالی کا دارومدار مکمل طور پر خطے میں پائیدار امن اور سفارتی کوششوں کی کامیابی پر منحصر ہے۔ تب تک، خلیجی منڈیاں انتہائی محتاط انداز میں کام جاری رکھیں گی اور ہر چھوٹی سیاسی تبدیلی کے ردعمل میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں گی۔