World
برازیل ایمیزون تیل دریافت: صدر لولا کا بیان اور ماحولیاتی خدشات
برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے دریائے ایمیزون کے دہانے کے قریب سمندری حدود میں تیل کے نئے ذخائر کی دریافت کو ملک کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
برازیل کے صدر لوئس اناسیو لولا ڈی سلوا نے حال ہی میں دریائے ایمیزون کے دہانے کے قریب سمندری حدود میں تیل کے نئے ذخائر کی دریافت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے برازیل کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے ان ذخائر کی تلاش اور ان سے استفادہ کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، صدر لولا کے اس موقف کے سامنے آتے ہی ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور کارکنوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دریائے ایمیزون کا دہانہ ایک انتہائی حساس ماحولیاتی نظام ہے اور وہاں تیل کی کھدائی اور ڈرلنگ کے عمل سے مقامی آبی حیات، مینگرووز کے جنگلات اور پورے خطے کی حیاتیاتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ تیل نکالنے کے دوران ہونے والا معمولی سا حادثہ یا تیل کا رساؤ ایک بڑی ماحولیاتی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماحولیاتی کارکنوں کا یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ برازیلی حکومت اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور تیل کی تلاش کی سرگرمیوں کو روک دے۔ ان کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں جب دنیا فوسل فیولز کے استعمال کو کم کرنے کی طرف گامزن ہے، برازیل کا اس قسم کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا عالمی ماحولیاتی وعدوں کے منافی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تیل کے بجائے قابل تجدید توانائی کے ذرائع جیسے کہ سولر اور ونڈ انرجی پر توجہ مرکوز کرے تاکہ ایمیزون کے قیمتی وسائل کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
حکومت برازیل فی الحال اس تذبذب کا شکار ہے کہ ایک طرف معاشی ترقی کی ضروریات ہیں اور دوسری طرف ماحولیاتی تحفظ کا عالمی دباؤ۔ صدر لولا کی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کھدائی کے دوران جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا تاکہ ماحولیاتی خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ تاہم، اس معاملے پر حکومت اور ماحولیاتی تنظیموں کے مابین جاری یہ کشمکش آنے والے وقتوں میں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے، کیونکہ ایمیزون کا تحفظ اب عالمی سطح پر ایک اہم بحث بن چکا ہے۔