Pakistan
این سی سی آئی اے کا صحافی اسد علی طور کو طلب کرنے کا فیصلہ، پریس کلب کی مذمت
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے غلط معلومات کی مبینہ ترسیل کے الزام میں صحافی اسد علی طور کو سمن جاری کر دیا ہے۔ دوسری جانب نیشنل پریس کلب نے اس نوٹس کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بدھ کے روز معروف صحافی اسد علی طور کو ایک انکوائری کے سلسلے میں باضابطہ طور پر طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سمن غلط یا فرضی معلومات کی مبینہ ترسیل اور عوامی سطح پر نمائش کے الزامات کے تحت جاری کیا گیا ہے، جس میں ریاست کو مدعی بنایا گیا ہے۔ یہ نوٹس پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعہ 26 اے کے تحت درج کی جانے والی شکایات پر جاری کیا گیا ہے۔ صحافی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو صبح 11 بجے اسلام آباد میں واقع این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔
ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ اگر موصوف بغیر کسی قانونی عذر کے پیش ہونے میں ناکام رہے تو اسے ان کا دفاع پیش کرنے سے گریز سمجھا جائے گا اور ان کی غیر موجودگی میں انکوائری کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ مزید برآں، یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 174 کے تحت قانونی کارروائی اور سزا دی جا سکتی ہے۔ اسد علی طور نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس نوٹس کی کاپی شیئر کرتے ہوئے مشہور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی شاعری کا سہارا لیا اور تصدیق کی کہ ریاست کی شکایت پر انہیں طلب کیا گیا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب (این پی سی) نے اسد علی طور کو نوٹس جاری کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے آزادی صحافت کے منافی قرار دیا ہے۔ پریس کلب کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ایک بنیادی آئینی حق ہے اور صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی یا تنقیدی آراء کے اظہار پر قانونی دباؤ کا نشانہ بنانا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں۔ این پی سی نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں کیونکہ آزاد اور محفوظ صحافت ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسد علی طور کو سال 2024 میں ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ مہم چلانے کے الزام میں پیکا کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جس پر صحافتی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ موجودہ نوٹس کے اجرا کے بعد میڈیا تنظیموں اور صحافتی حلقوں میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے اس نوٹس کو فی الفور واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔