LIVE
Loading Breaking News...

جکارتہ میں طلبا مظاہرین کی گرفتاریاں: تازہ ترین صورتحال

News Image
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبا نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی اور کم از کم 21 طلبا کو حراست میں لے لیا۔
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منگل کے روز صورتحال کشیدہ ہو گئی جب یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبا سڑکوں پر نکل آئے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس مظاہرے کے دوران طلبا نے اپنی مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، احتجاج کے دوران حالات اس وقت قابو سے باہر ہو گئے جب پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں اور انھیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال شروع کر دیا۔ پولیس کے اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں صورتحال تصادم میں تبدیل ہوگئی۔ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق اس ہنگامہ آرائی اور غیر قانونی اجتماع کے الزام میں کم از کم 21 یونیورسٹی طلبا کو حراست میں لے لیا گیا ہے جنہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد جکارتہ کے مختلف حصوں میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور اہم شاہراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور طلبا یونینوں نے پولیس کے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے طلبا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کر رہے تھے، لیکن پولیس نے بلاوجہ تشدد کا سہارا لیا۔ دوسری جانب پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ احتجاج کے نام پر نظم و نسق کو خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار ہونے والے طلبا سے تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ شہر میں کشیدگی برقرار ہے اور طلبا تنظیموں نے مزید احتجاج کی کال دینے پر غور شروع کر دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید گرم ہونے کا خدشہ ہے۔