World
شام کے ایئر بیس پر اسرائیلی حملہ، اہم تجزیہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام کے ابو الظہور ایئر بیس پر حالیہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایک تزویراتی انتباہ ہے جس کا مقصد شامی فضائیہ کی بحالی کو روکنا ہے۔ یہ کارروائی خطے میں اسرائیل کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور فوجی حکمت عملی کی عکاس سمجھی جا رہی ہے۔
شام کے معروف فوجی ہوائی اڈے 'ابو الظہور' پر ہونے والا حالیہ حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق یہ اسرائیل کی جانب سے دمشق اور انقرہ کے لیے ایک واضح تزویراتی پیغام ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کا بنیادی مقصد شام کو یہ باور کروانا ہے کہ وہ اپنی فضائی صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش نہ کرے اور نہ ہی ایسے انفراسٹرکچر کو فعال کرے جو اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکے۔ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل خطے میں اپنے دشمنوں کی عسکری بحالی کو کسی بھی قیمت پر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اسرائیلی اقدام کو ترکیہ کے لیے بھی ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ شمالی شام میں انقرہ کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ شام کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی، چاہے وہ کسی بھی اتحادی کی مدد سے ہو، اس کی نگرانی میں ہے۔ ابو الظہور جیسے اہم فضائی اڈے کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے پاس شام کے دور دراز علاقوں میں بھی کارروائی کرنے کی صلاحیت اور انٹیلیجنس نیٹ ورک موجود ہے۔ یہ حکمت عملی دراصل ایران اور اس کے حمایتی گروہوں کی شام میں بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کو محدود کرنے کی ایک کوشش ہے۔
دوسری جانب دمشق کی حکومت کے لیے یہ حملہ ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ یہ ان کی اپنی سرزمین پر اپنی عسکری تعمیر نو کی کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔ شامی حکام نے اس حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، لیکن عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ شام کے پاس فی الحال ایسی فضائی دفاعی صلاحیت نہیں ہے جو اسرائیلی جیٹ طیاروں کو مؤثر طریقے سے روک سکے۔ موجودہ حالات میں یہ خطہ مزید کشیدگی کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جہاں اسرائیل اپنی ریڈ لائنز کو واضح رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے پرعزم ہے۔
مستقبل میں یہ کشیدگی نہ صرف شام کے اندرونی حالات پر اثر انداز ہوگی بلکہ ترکیہ، روس اور ایران کے مابین موجودہ توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ شام کی فضائیہ کی بحالی نہ صرف ایک ملکی معاملہ ہے بلکہ یہ پورے مشرق وسطیٰ کے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ شمالی سرحدوں پر کسی بھی قسم کی عسکری پیش قدمی کو خاموشی سے نہیں دیکھے گا اور اس طرح کے حملے مستقبل میں بھی جاری رہ سکتے ہیں۔