Pakistan
آزاد کشمیر پولیس کا جے اے اے سی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کا الزام
آزاد کشمیر پولیس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال مختلف پُرتشدد واقعات میں 26 سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) امن کے نام پر ریاست مخالف اور دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔
آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاض مغل نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال کے دوران بدترین بدحسنی اور جھڑپوں کے واقعات میں پولیس اور رینجرز کے 26 اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس تنظیم کے ارکان نے جان بوجھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ صرف سال 2026ء کے دوران ہی ان کے 26 جوانوں کو شہید کیا گیا جبکہ 157 اہلکار شدید زخمی ہوئے اور 629 کو معمولی چوٹیں آئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی تعداد میں جانی نقصان کے بعد ان مظاہرین کو پُرتشدد کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ پولیس حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے ادارے کسی بے قصور کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ کارروائی صرف ان لوگوں کے خلاف کی جاتی ہے جو خود ان کے اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔ یہ بیانات راولاکوٹ اور میرپور میں ہونے والے پُرتشدد جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جہاں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا۔ دوسری جانب جے اے اے سی مہاجرین کی نشستوں اور دیگر مطالبات کے سلسلے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے خطے میں احتجاج کر رہی ہے۔ ایس ایس پی ریاض مغل نے میڈیا کے سامنے مظاہرین کے مبینہ قبضے سے برآمد ہونے والا خطرناک اسلحہ بھی پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ جدید ہتھیار قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس تحریک کی آڑ میں مبینہ طور پر ستر فیصد مجرم اور منشیات فروش عناصر چھپے ہوئے ہیں جو باقاعدہ ایک خطرناک ایجنڈے کے تحت ریاست میں بدامنی پھیلا رہے ہیں اور غیر ملکی فنڈنگ پر پلنے والے عناصر اس میں ملوث ہیں۔ ایک اور پریس کانفرنس میں ایس ایس پی راولاکوٹ خاور علی شوکت نے بھی ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ راولاکوٹ کے واقعات سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ مظاہرین کا پُرتشدد احتجاج صرف ایک ڈھونگ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز پر گھات لگا کر جدید خودکار ہتھیاروں سے حملے کیے گئے جن میں ایک رینجرز اہلکار شہید اور کئی پولیس افسران زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور کئی ملزمان کو بھاری اسلحے سمیت گرفتار کیا جا चुका ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ ہر صورت بحال رکھی جائے گی اور پرامن احتجاج کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔