LIVE
Loading Breaking News...

سمییک ٹیکنالوجیز کا عسکری اے آئی ٹیکنالوجی میں بڑا قدم

News Image
سمییک ٹیکنالوجیز نے پینٹاگون کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے لیے نئی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ کمپنی فوجی آپریشنز میں فیصلے کرنے میں مددگار اے آئی ٹولز اور پہننے کے قابل ہارڈویئر تیار کر رہی ہے۔
واشنگٹن میں قائم ڈیفنس ٹیکنالوجی سٹارٹ اپ 'سمییک ٹیکنالوجیز' نے حال ہی میں ایک اہم مالیاتی فنڈنگ راؤنڈ مکمل کیا ہے جس کا بنیادی مقصد امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ سرمایہ کاری ان کی فلیگ شپ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی فیصلہ سازی کے ٹولز کی تیاری اور رفتار کو بڑھانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ پینٹاگون کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کو جلد از جلد میدانِ عمل میں لانے کے دباؤ کے پیشِ نظر کمپنی اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ سمییک ٹیکنالوجیز کا فوکس خاص طور پر ایسی اے آئی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے جو جنگی حالات میں کمانڈروں کو فوری اور درست فیصلے لینے میں مدد فراہم کر سکے۔ اس نئی فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ 'ویئریبل اے آئی ہارڈویئر' یعنی پہننے کے قابل ایسی ڈیوائسز بنانے پر خرچ کیا جائے گا جو براہِ راست جنگ کے میدان میں سپاہیوں کے لیے کارآمد ثابت ہوں گی۔ یہ ڈیوائسز نہ صرف ڈیٹا کا تجزیہ کریں گی بلکہ شدید دباؤ کے ماحول میں اہم بصیرت فراہم کر کے فوجی آپریشنز کی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔ کمپنی کے سی ای او کے مطابق، عسکری شعبے میں اے آئی کا انضمام اب ایک ضرورت بن چکا ہے اور پینٹاگون کے ساتھ اشتراک سے وہ اس ٹیکنالوجی کو جلد از جلد فوجی صفوں میں پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دفاعی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا کردار آنے والے برسوں میں دنیا بھر کی افواج کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ سمییک ٹیکنالوجیز کا یہ اقدام امریکی فوج کی تکنیکی برتری کو برقرار رکھنے کی ایک کڑی ہے، جہاں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر اور ذہین سسٹم کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کمپنی اب ان فنڈز کو اپنی ٹیم کو وسعت دینے اور جدید ترین الگورتھمز کی جانچ کے لیے استعمال کرے گی تاکہ میدانِ جنگ میں درپیش پیچیدہ چیلنجز کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے حکام بھی اس پیشرفت کو امید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے فوجی حکمت عملیوں میں خودکار نظاموں کی شمولیت مزید مؤثر ہوگی۔