Technology
برطانیہ میں میڈیکل ٹیکنالوجی پر 22 ملین پاؤنڈز کی سرمایہ کاری
برطانوی حکومت نے این ایچ ایس مریضوں کے خلیات سے تجربہ گاہ میں چھوٹے انسانی اعضاء تیار کرنے کے لیے 22 ملین پاؤنڈز کی بھاری سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد جانوروں کے بجائے ان اعضاء پر ادویات کا ٹیسٹ کرنا اور علاج کے عمل کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
برطانیہ کی حکومت نے حال ہی میں ایک اہم طبی پیش رفت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 22 ملین پاؤنڈز کی خطیر رقم لیبارٹری میں چھوٹے انسانی اعضاء (Miniature Organs) تیار کرنے کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ این ایچ ایس (NHS) مریضوں سے حاصل کردہ خلیات پر مبنی ہوگا، جنہیں خصوصی ڈشز میں نشوونما دے کر انسانی اعضاء کی شکل دی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ادویات کی جانچ کے لیے روایتی اور اکثر غیر موثر طریقوں کو جدید سائنسی طریقوں سے تبدیل کرنا ہے تاکہ طبی تحقیق کو مزید شفاف اور درست بنایا جا سکے۔ حکومتی بیان کے مطابق، اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ نئی تحقیقی سہولیات کے قیام پر خرچ کیا جائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنسدان انسانی اعضاء کے چھوٹے نمونوں پر مختلف ادویات کے اثرات کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ اب تک ادویات کے ٹرائلز کے لیے جانوروں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، جو اکثر انسانی جسم پر اثرات کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ 'آرگن آن اے چپ' (Organ-on-a-chip) اور دیگر بائیو ٹیکنالوجی طریقوں سے تیار کردہ یہ منی اعضاء انسانی بیماریوں کو سمجھنے اور ان کے علاج کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوں گے۔ اس سے ادویات کے ضمنی اثرات کو پہلے سے بہتر انداز میں جانچا جا سکے گا، جس سے مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
طبی ماہرین نے حکومت کے اس اقدام کو ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔ اس تحقیق سے کینسر، ذیابیطس اور دیگر پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے ادویات کی تیاری میں درکار وقت اور اخراجات میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ برطانیہ کا یہ منصوبہ نہ صرف طبی تحقیق کے میدان میں ملک کی برتری کو برقرار رکھے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بائیو میڈیکل سائنس کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے گا۔ آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال سے ہیلتھ کیئر کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئے گی، جس سے براہ راست مریضوں کو فائدہ پہنچے گا اور ذاتی نوعیت کے علاج (Personalized Medicine) کی راہ ہموار ہوگی۔