LIVE
Loading Breaking News...

حیاتیاتی تحریک سے جدید میٹریلز کی تیاری: ایم آئی ٹی کی اہم تحقیق

News Image
ایم آئی ٹی کے محققین نے ایک ایسا جدید ریاضیاتی فریم ورک وضع کیا ہے جو قدرتی اشیاء کی ساخت کو مصنوعی میٹریل میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیشرفت سے ایسے موافق میٹریلز کی تیاری ممکن ہو سکے گی جو حیاتیاتی نظاموں کی طرح ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے ماہرین نے میٹریل سائنس میں ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے ایک ایسا ریاضیاتی فریم ورک تیار کیا ہے جو حیاتیاتی اصولوں کو جدید مینوفیکچرنگ کے عمل سے جوڑتا ہے۔ یہ تحقیق اس بات پر مرکوز ہے کہ کس طرح قدرتی اشیاء، جیسا کہ صنوبر کے مخروط (pine cone) کی ساخت اور ان کی موافق صلاحیتوں کو مصنوعی طور پر تیار کردہ میٹریلز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی انجینئرز کو اس قابل بنائے گی کہ وہ ایسے مواد تخلیق کر سکیں جو ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ محققین کے مطابق، اس فریم ورک کا بنیادی مقصد قدرتی اشیاء کے پیچیدہ اجزاء کو بنیادی بلاکس میں تقسیم کرنا ہے جنہیں باہم ملا کر نئے اور بہتر میٹریلز بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ 'مکس اینڈ میچ' کا عمل محققین کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ حیاتیاتی نظاموں کی نقل کرتے ہوئے ایسے مواد ڈیزائن کریں جو درجہ حرارت، نمی یا دیگر بیرونی عوامل کے ردعمل میں اپنی شکل یا خصوصیات تبدیل کر سکیں۔ اس طرح، مصنوعی میٹریلز اب صرف بے جان اشیاء نہیں رہیں گے بلکہ وہ جانداروں کی طرح ماحول کے ساتھ تعامل کریں گے۔ اس تحقیق کے اثرات مینوفیکچرنگ انڈسٹری اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے شعبوں میں دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے تیار کردہ میٹریلز نہ صرف زیادہ پائیدار ہوں گے بلکہ ان کی کارکردگی بھی روایتی میٹریلز کے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہوگی۔ خاص طور پر ایسے آلات اور سٹرکچرز کی تعمیر میں یہ ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرے گی جنہیں خود کار طریقے سے کام کرنے اور حالات کے مطابق ایڈجسٹ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مستقبل میں اس فریم ورک کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنے سے روبوٹکس، پہننے کے قابل ٹیکنالوجی (wearable tech)، اور تعمیراتی صنعت میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ایم آئی ٹی کی یہ کاوش سائنس اور قدرت کے مابین موجود خلیج کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے، جس سے انسانی انجینئرنگ کو ایک نئی سمت ملے گی۔ محققین اب اس بات پر مزید کام کر رہے ہیں کہ اس فریم ورک کو کس طرح مختلف صنعتی ایپلی کیشنز میں عملی طور پر استعمال کیا جا سکے تاکہ بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا جا سکے۔