Politics
ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر کا انوکھا فیصلہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ میں نئے بال روم کی تعمیر کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جارج واشنگٹن سے مشورہ کیا ہے۔ اس اقدام نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا تاریخی مقامات میں تبدیلی کے لیے ٹیکنالوجی کا یہ استعمال مناسب ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ میں ایک وسیع و عریض بال روم کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے لیے انہوں نے ایک حیران کن قدم اٹھاتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد سے تیار کردہ 'جارج واشنگٹن' کے ڈیجیٹل ماڈل سے مشاورت کی ہے۔ یہ منصوبہ گزشتہ اکتوبر میں ایسٹ ونگ کو منہدم کرنے کے بعد سے مسلسل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں ایک ایسا مقام چاہتے ہیں جو نہ صرف جدید سہولیات سے آراستہ ہو بلکہ ماضی کی روایات کی جھلک بھی پیش کرے۔
ابتدائی طور پر ٹرمپ نے اس تعمیر کی توجیہہ کے طور پر کہا تھا کہ انہیں اپنی تقریبات کے لیے ایک مناسب جگہ کی ضرورت ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کے دلائل میں تبدیلی آتی گئی ہے۔ اب وہ اسے ایک 'تاریخی بحالی' کا نام دے رہے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ وائٹ ہاؤس جیسے اہم ترین تاریخی ورثے میں اس قسم کی تبدیلیاں کرنے سے پہلے ماہرینِ فن تعمیر اور تاریخ دانوں سے مشورہ کرنا چاہیے تھا، نہ کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تخیلاتی شخصیات سے رائے لی جانی چاہیے۔
اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ٹیکنالوجی اور سیاست کے ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اے آئی ماڈل، جو صرف ڈیٹا کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، وائٹ ہاؤس جیسے حساس اور تاریخی عمارت کے حوالے سے کوئی مناسب فیصلہ دے سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ جدید دور کا تقاضا ہے کہ ہم ماضی کے رہنماؤں کی سوچ کو موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے سمجھ کر آگے بڑھیں۔
تاہم، وائٹ ہاؤس میں اس قسم کی تعمیرات کے حوالے سے قانونی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں۔ ثقافتی تحفظ کے ادارے اور اپوزیشن جماعتیں اس منصوبے پر کڑی تنقید کر رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ صرف ایک ذاتی پسند کی عکاسی ہے اور اس سے قومی ورثے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ٹرمپ اپنے اس متنازعہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر عوامی دباؤ کے پیش نظر انہیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔