LIVE
Loading Breaking News...

اسٹاک مارکیٹ تازہ ترین: ڈاؤ جونز میں گراوٹ اور تیل کی قیمتوں میں تیزی

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کے حوالے سے دھمکی آمیز بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ڈاؤ جونز انڈیکس میں گراوٹ دیکھی گئی جبکہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار ہے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا جس کے نتیجے میں ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج اور دیگر اہم انڈیکسز میں گراوٹ دیکھی گئی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ حالیہ دھمکی آمیز بیان ہے جس میں انہوں نے امریکہ کے اتحادی ملک عمان کو نشانہ بنانے کی بات کی۔ اس بیان کے بعد سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خطے میں کشیدگی کے خدشات کے پیش نظر عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال کے برعکس تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ عمان اور اس کے قریبی خطے میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تیل کی سپلائی لائنز میں تعطل کے خوف سے سرمایہ کاروں نے توانائی کے شعبے کی جانب رخ کیا ہے۔ دوسری جانب سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص پر شدید دباؤ رہا ہے اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کی وجہ سے کئی بڑی کمپنیوں کے شیئرز کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ تاہم، ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہی سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنیوں کی کارکردگی غیر معمولی رہی۔ خاص طور پر مائیکرون ٹیکنالوجی اور سین ڈسک کے حصص میں مسلسل تیزی کا رجحان برقرار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چپ بنانے والی ان صنعتوں پر فی الحال سیاسی حالات کا براہ راست منفی اثر نہیں پڑا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیمی کنڈکٹر کی بڑھتی ہوئی مانگ ان کمپنیوں کو عالمی معاشی بحران کے دوران بھی سہارا فراہم کر رہی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اسٹاک مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ عالمی سرمایہ کار اب امریکی انتظامیہ کے مزید اقدامات اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے نئے حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رجحان ان ہی عوامل کے زیر اثر رہنے کا امکان ہے۔