World
یوکرین کا حملہ: چینی ٹیکنالوجی سے لیس ڈرون نے روسی بمبار طیارہ تباہ کر دیا
یوکرین کی جانب سے روس کے ٹی یو-95 بمبار طیارے کو نشانہ بنانے والے ڈرون کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ یہ جدید ڈرون مبینہ طور پر چین کے زیڈ ٹی کے-150 یو اے وی کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔
حال ہی میں مغربی روس کے ایک ایئر بیس پر یوکرین کے ڈرون حملے نے دنیا بھر کی عسکری قیادت کو حیران کر دیا ہے، جس میں ایک انتہائی اہم ٹی یو-95 (TU-95) اسٹریٹجک بمبار طیارے کو پارکنگ کے دوران تباہ کر دیا گیا۔ تازہ ترین اطلاعات اور تجزیوں سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والا یوکرینی ڈرون دراصل ایک چینی ساختہ یو اے وی زیڈ ٹی کے-150 (ZTK-150) کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب یہ معلوم ہوا کہ چین نے باضابطہ طور پر یہ ٹیکنالوجی یوکرین کو فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد اسے خفیہ ذرائع سے حاصل کیا گیا۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو تلاش کرنے اور اسے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ چین نے عالمی دباؤ اور غیر جانبداری برقرار رکھنے کی پالیسی کے تحت ان ڈرونز کی براہِ راست برآمد پر پابندی لگا رکھی ہے، تاہم بلیک مارکیٹ یا تھرڈ پارٹی ذرائع سے یہ ٹیکنالوجی یوکرین تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔ یوکرینی انجینیئرز نے اس چینی ڈیزائن کو اپنی مقامی ٹیکنالوجی کے ساتھ ضم کر کے اسے جنگی ضروریات کے مطابق مزید مہلک بنا دیا ہے، جس نے روسی فضائی دفاعی نظام کو چکما دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر چینی ٹیکنالوجی کے غیر قانونی پھیلاؤ اور اس کے استعمال پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ روس کی جانب سے اس معاملے پر شدید ردِعمل متوقع ہے کیونکہ ٹی یو-95 بمبار روس کی فضائی طاقت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے، اور اسے ایک ایسے ڈرون سے تباہ کرنا جو بنیادی طور پر چینی ڈیزائن کا حامل ہے، سکیورٹی کے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے جدید ڈرونز کا استعمال آنے والے وقت میں جنگ کی نوعیت کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے، جہاں مہنگے جنگی طیاروں کو سستے اور خفیہ ٹیکنالوجی سے لیس ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانا معمول بن جائے گا۔ فی الحال یوکرین اور چین دونوں کی جانب سے اس حساس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم انٹیلیجنس رپورٹس اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ یہ حملہ جدید ٹیکنالوجی کی غیر قانونی نقل و حمل کا ایک واضح ثبوت ہے۔