LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے متعلق متنازعہ بیان اور ایرانی ردعمل

News Image
نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں آبنائے ہرمز کو نیا امریکی علاقہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس بیان پر ایرانی حکام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
واشنگٹن: امریکی سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب سابق اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر پوسٹ کی جو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی تھی۔ اس تصویر میں اہم اور حساس تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو ایک 'نئے امریکی علاقے' کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اس دعوے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس خطے سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں، جس پر بین الاقوامی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام اور سفارت کاروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے اور بیان پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تہران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی بھی قسم کی یکطرفہ جارحیت یا قبضے کے دعوے کو قطعي برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ عبوری معاہدے کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے واضح سرخ لکیریں کھینچ دی ہیں اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی اقدام کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ماہرینِ امورِ عالم کا کہنا ہے کہ اس تازہ بیان بازی اور ڈیجیٹل پروپیگنڈے سے مشرق وسطیٰ بالخصوص خلیجی ممالک میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے سب سے اہم ترین سمندری راستہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تنازعہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔