LIVE
Loading Breaking News...

شرجیل میمن کا بیان: نئے صوبے صرف آئینی راستے سے بن سکتے ہیں

News Image
صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبے کسی زبردستی یا دباؤ کے بغیر صرف آئینی عمل اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی بنائے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی رہنماؤں کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بیانات اور مطالبات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔
کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کا قیام اور انتظامی یونٹس کی تشکیل صرف اور صرف آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس نوعیت کے اہم قومی فیصلے کسی بھی سیاسی دباؤ، ذاتی خواہش یا غیر آئینی طریقے سے نہیں کیے جا سکتے بلکہ اس کے لیے آئین میں درج طریقہ کار کی مکمل پاسداری کرنا ہو گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے سیاسی ہلچل اور بیانات کا سلسلہ عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک طرف جہاں بعض سیاسی شخصیات نے ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے، وہیں وفاقی حکومت کی طرف سے بھی اس معاملے پر مختلف آراء اور ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، نئے صوبوں کی تشکیل کا یہ دیرینہ مسئلہ ایک بار پھر ملکی سیاسی منظر نامے کے مرکز میں آ گیا ہے جس پر تمام جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ میدان میں اتری ہوئی ہیں۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں اور بعض دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کچھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی کو اس قسم کی قانون سازیاں کرنے سے پہلے وسیع تر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے، جبکہ دیگر حلقوں کی طرف سے قانون سازی کے عمل اور اس کے وقت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ملک میں انتظامی بہتری اور عوامی مطالبات کی تکمیل کے لیے صوبوں کی تقسیم یا نئے یونٹس کا قیام ایک انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ ہے، جس کے لیے سیاسی رواداری اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔