LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی، اقوام متحدہ کا اہم مطالبہ

News Image
اقوام متحدہ کے سربراہ نے خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کی بحالی کی اپیل کی ہے۔ یہ مطالبہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی میعاد ختم ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور دیرپا امن کے حصول کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ سیکریٹری جنرل کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی ایک اہم مفاہمت کی یادداشت (MoU) اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد ختم ہو گئی ہے، جس سے خطے میں سفارتی خلا پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی ادارے کے سربراہ کا ماننا ہے کہ خلیجی خطے کا استحکام عالمی امن کے لیے انتہائی ناگزیر ہے اور کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی خطے کو تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی کی تاریخ کافی طویل ہے، جس میں اقتصادی پابندیاں، جوہری پروگرام پر اختلافات اور علاقائی سیکیورٹی کے امور سر فہرست ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت کے خاتمے نے دونوں اطراف کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے بغیر براہ راست بات چیت کے ذرائع محدود ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج میں کسی بھی تنازع کے اثرات نہ صرف ان دونوں ممالک پر بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین پر مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ امریکہ کو خطے میں اپنی جارحانہ پالیسیوں کو ترک کرنا ہوگا جبکہ واشنگٹن ایران کے علاقائی کردار اور میزائل پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ کی اس تازہ اپیل کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی برادری دونوں ممالک پر دباؤ ڈالے گی تاکہ کسی نئے سفارتی فریم ورک کے تحت مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔ آخر میں، عالمی برادری کی نظریں اس بات پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔ خلیجی خطے میں امن کا قیام صرف ان دو ممالک کی باہمی سمجھ بوجھ اور مذاکرات میں سنجیدگی سے ہی ممکن ہے۔ اقوام متحدہ نے ایک بار پھر پیشکش کی ہے کہ وہ ثالثی کے کردار کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ فریقین اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر امن کے لیے پیش قدمی کریں۔