LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کے خلاف بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق تاریخی مقدمہ شروع

News Image
امریکہ میں میٹا کمپنی کے خلاف ایک اہم قانونی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جس میں پلیٹ فارم کے بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ مقدمہ 2021 میں سامنے آنے والے انکشافات کے بعد دائر کیا گیا جن میں کمپنی پر منافع کی خاطر صارفین کی حفاظت کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
امریکہ میں سوشل میڈیا کی دیو ہیکل کمپنی 'میٹا' کے خلاف ایک انتہائی اہم اور تاریخی مقدمے کی سماعت کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ اس قانونی کارروائی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ آیا انسٹاگرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز دانستہ طور پر اپنے الگورتھم کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مقدمے کے مدعیان کا موقف ہے کہ کمپنی اپنے منافع کو یقینی بنانے کے لیے نوجوان صارفین کو طویل عرصے تک ایپ پر مصروف رکھنے کی حکمت عملی اپناتی ہے، جس کے باعث بچوں میں ڈپریشن، اضطراب اور دیگر نفسیاتی مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ قانونی جنگ طویل عرصے سے زیر التوا تھی جس میں ماہرین نفسیات اور ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار اپنی گواہیاں ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ اس مقدمے کی بنیاد 2021 میں سامنے آنے والے سنسنی خیز انکشافات پر رکھی گئی ہے، جب کمپنی کی ایک سابق ملازمہ اور وسل بلور فرانسس ہاؤگن نے اندرونی دستاویزات لیک کی تھیں۔ ان دستاویزات سے یہ واضح ہوا تھا کہ میٹا کو بخوبی علم تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز بچوں کی ذہنی صحت پر کس قدر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، تاہم کمپنی نے اپنے تجارتی مفادات کو انسانی تحفظ اور اخلاقیات پر فوقیت دی۔ ان انکشافات کے بعد سے ہی دنیا بھر کے قانون سازوں اور والدین کی جانب سے کمپنی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اب عدالت اس معاملے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے فیصلے سے سوشل میڈیا کمپنیوں کے کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اگر عدالت میٹا کو قصوروار ٹھہراتی ہے تو اسے نہ صرف بھاری جرمانے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں بلکہ اپنے الگورتھم اور حفاظتی پالیسیوں میں بھی بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ یہ مقدمہ اس بحث کو بھی تقویت دیتا ہے کہ آیا سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر ہونے والی نقصان دہ سرگرمیوں کے لیے قانونی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے یا نہیں۔ مقدمے کے دوران میٹا کی جانب سے دفاع میں کہا گیا ہے کہ وہ نوجوان صارفین کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے اور اس نے حال ہی میں حفاظتی اقدامات میں مزید بہتری لائی ہے۔ تاہم، متاثرہ خاندانوں اور وکلاء کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں ہیں اور کمپنی کو اپنی گزشتہ غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ عدالت کی کارروائی پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ یہ کیس مستقبل میں سوشل میڈیا کے استعمال اور آن لائن بچوں کی حفاظت کے قوانین مرتب کرنے میں ایک نظیر کا کردار ادا کرے گا۔