World
غزہ سٹی میں اسرائیلی بمباری سے بچوں سمیت 6 شہری شہید
غزہ سٹی کے ساحلی علاقے میں واقع ایک کیفے پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت چھ فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ طبی حکام کے مطابق حملے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
غزہ سٹی کے بندرگاہی علاقے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی ایک کارروائی میں ایک مقامی کیفے کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ فلسطینی شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ مقامی طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب کیفے میں موجود افراد معمول کے مطابق اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک کم سن بچہ بھی شامل ہے، جس کی موت نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ حملے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام شروع کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کیفے کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور وہاں موجود دیگر کئی افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں طبی عملے کے مطابق کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران شہری آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود غزہ میں شہری تنصیبات، ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر حملے بدستور جاری ہیں، جس سے انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ غزہ کے شہری پہلے ہی خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں، اور ایسے حملے مقامی آبادی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ علاقے میں موجود میڈیا رپورٹس کے مطابق لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے اس صورتحال پر خاموشی کو فلسطینی حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ انسانی بنیادوں پر فوری امداد کی فراہمی اور جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔