World
ٹرمپ کی مقبولیت میں ریکارڈ کمی، عوامی حمایت 33 فیصد رہ گئی
ایک نئے رائے شماری کے نتائج کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ 33 فیصد تک گر گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار ان کے صدارتی دور میں ریکارڈ کی جانے والی اب تک کی سب سے کم سطح ہے۔
امریکی سیاست میں ایک اہم موڑ پر رائٹرز اور اِپسوس کی جانب سے کرائے گئے ایک تازہ ترین عوامی رائے شماری کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تشویشناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ سروے کے اعدادوشمار کے مطابق ٹرمپ کی عوامی حمایت گر کر 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو کہ ان کے پورے صدارتی دور کے دوران ریکارڈ کی جانے والی سب سے کم ترین سطح ہے۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سیاسی میدان میں ہلچل تیز ہے اور آئندہ کے سیاسی منظرنامے پر ان کے اثرات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔
ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ مختلف پالیسی فیصلوں اور حالیہ سیاسی تنازعات کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ سروے میں شامل افراد میں سے اکثریت نے ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت کا گراف کافی نیچے چلا گیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے حامیوں کی ایک مضبوط تعداد اب بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم 33 فیصد کی یہ شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غیر جانبدار اور اعتدال پسند ووٹرز کے درمیان ان کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اعدادوشمار ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مستقبل اور ان کی دوبارہ انتخاب لڑنے کی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ امریکی ووٹرز کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ملکی معیشت سمیت دیگر اہم معاملات پر ٹرمپ کا مؤقف عوام کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کرنے میں ناکام رہا ہے۔ رائٹرز اور اِپسوس کی یہ رپورٹ امریکی عوام کے موڈ کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ یہ اعدادوشمار نہ صرف ماضی کے فیصلوں کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ مستقبل کے سیاسی انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی ان اعدادوشمار پر ردعمل دیتے ہوئے اسے عوام کی جانب سے ٹرمپ کی پالیسیوں کے مسترد ہونے کا نام دیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے اس سروے کے طریقہ کار اور شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بہرحال، اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی عوامی مقبولیت کو بحال کرنے کے لیے ایک نئے سیاسی بیانیے اور ٹھوس اقدامات کی سخت ضرورت ہے۔