LIVE
Loading Breaking News...

ایپل کی یورپی مارکیٹ کے لیے نئی ایپ اسٹور پالیسیاں

News Image
ایپل نے یورپی یونین کے نئے قوانین کی تعمیل کرتے ہوئے متبادل ایپ اسٹورز کے لیے اپنی فیسوں اور پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ کے تحت یورپی صارفین کو مزید انتخاب اور لچک فراہم کرنا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی ایپل نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے خطے میں اپنے متبادل ایپ اسٹورز کے لیے فیسوں کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں لا رہی ہے۔ یہ فیصلہ یورپی یونین کے 'ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ' (DMA) کی تعمیل کے لیے کیا گیا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کرنا اور صارفین کے لیے مارکیٹ میں مسابقت کو بڑھانا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت ڈویلپرز کو اب اپنے ایپس کو ایپل کے مرکزی ایپ اسٹور کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز پر پیش کرنے کی مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ایپل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان تبدیلیوں میں بنیادی طور پر فیسوں کے ڈھانچے کو آسان بنانا شامل ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈویلپرز پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ یورپی ریگولیٹرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ صارفین کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کو برقرار رکھتے ہوئے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، ایپل نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ اب بھی اپنے پلیٹ فارم پر سیکورٹی کے سخت معیارات کو برقرار رکھے گی تاکہ صارفین کو میلویئر اور دیگر سائبر خطرات سے بچایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایپل کا یہ اقدام یورپی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور ریگولیٹری دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ماضی میں ایپل کی جانب سے 'کور ٹیکنالوجی فیس' اور دیگر چارجز پر ڈویلپرز کی جانب سے کافی تنقید کی گئی تھی، جس کے بعد اب کمپنی ان اعتراضات کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس نئی تبدیلی کے ساتھ، یورپی صارفین اب اپنے آئی فونز پر زیادہ آسانی سے تھرڈ پارٹی ایپ اسٹورز انسٹال کر سکیں گے، جس سے ایپل کی اجارہ داری میں کمی آئے گی۔ یہ پیشرفت نہ صرف ڈویلپرز کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ صارفین کو اپنی پسند کی ایپس کے انتخاب میں مزید آزادی بھی فراہم کرے گی۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ تبدیلیاں واقعی یورپی صارفین کے تجربے کو بہتر بناتی ہیں یا ایپل کو مزید قانونی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔