Pakistan
سوات مٹہ آپریشن: پولیس اہلکار شہید، چار دہشت گرد ہلاک
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل مٹہ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران ایک کانسٹیبل شہید اور چار دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے جہاں دہشت گردوں نے ایک گھر کے مکینوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا ہے۔
سوات کے علاقے مٹہ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ اس جھڑپ کے دوران ایلیٹ فورس کا ایک جوان جام شہادت نوش کر گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی منگل کی شب مٹہ کی تحصیل میں عمل میں لائی گئی جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال کریمی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان میں تصدیق کی گئی کہ ایلیٹ فورس کے کانسٹیبل گلفام نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
بعد ازاں سیکیورٹی ذرائع نے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان آرمی، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مشترکہ آپریشن تاحال جاری ہے جس میں اب تک چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند دیگر دہشت گرد ایک رہائشی مکان کے اندر پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے اور وہ معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تمام دہشت گرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں ریاست فتنہ الخوارج کے نام سے پکارتی ہے۔
آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مٹہ کے راشد سر کے علاقے میں ایک اہم اسٹریٹجک مقام کا کنٹرول کامیابی سے سنبھال لیا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع بالخصوص سوات کی تحصیلوں کابل اور مٹہ میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جن کے خلاف ریاست کی جانب سے مؤثر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں سیکیورٹی صورتحال خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات چیلنج بنے ہوئے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی فورسز چوکس ہیں۔