Technology
AI مہارتوں کا بحران: کیا صرف کنٹینٹ کافی ہے؟
مصنوعی ذہانت میں مہارت حاصل کرنے کے لیے محض تعلیمی مواد کا استعمال ناکافی ہے اور اس کے لیے عملی تربیت کی ضرورت ہے۔ تنظیموں کو اپنی افرادی قوت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر عملی تجربات پر توجہ دینی ہوگی۔
گزشتہ ایک سال کے دوران پیشہ ورانہ مشاورت اور کارپوریٹ سیکٹر میں ایک سوال بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لیے بہترین مواد کون سا ہے؟ بہت سی کمپنیاں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اپنی افرادی قوت کو تیزی سے تربیت دینے کے لیے کس قسم کا تعلیمی مواد خریدا جائے۔ ابتدا میں یہ جواب دیا جاتا تھا کہ مارکیٹ میں موجود اے آئی کنٹینٹ کا معیار بہت بہتر ہو چکا ہے، تاہم اب یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ محض معلوماتی مواد یا ویڈیو لیکچرز دیکھنا اے آئی کی مہارتوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو مسلسل بدل رہی ہے، اور اسے سیکھنے کا عمل صرف تھیوری تک محدود نہیں رہ سکتا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی کے میدان میں مہارت حاصل کرنے کے لیے عملی تجربہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جب آپ صرف مواد فراہم کرتے ہیں تو ملازمین معلومات تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اسے حقیقی کاروباری مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے۔ تنظیموں کو اب اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپ سکلنگ (Upskilling) کا مطلب صرف نئے کورسز میں داخلہ لینا نہیں ہے بلکہ یہ ایک مربوط حکمت عملی کا نام ہے جس میں ہینڈز آن پروجیکٹس اور ڈیٹا پر مبنی عملی مشقیں شامل ہوں۔ اگر کوئی ادارہ صرف مواد پر انحصار کرے گا تو وہ اے آئی کے میدان میں مسابقتی برتری حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔
اے آئی کی مہارتوں کے فرق کو ختم کرنے کے لیے تنظیموں کو 'لرننگ بائی ڈوئنگ' (Learning by doing) کے فلسفے کو اپنانا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملازمین کو ایسے ماحول میں کام کرنے کا موقع دیا جائے جہاں وہ اے آئی ٹولز کا عملی استعمال کریں۔ اس کے علاوہ، مسلسل رہنمائی اور انٹرایکٹو ورکشاپس کے بغیر ملازمین کا حوصلہ بھی کم ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کمپنیاں صرف کنٹینٹ خریدنے کے بجائے ایسے تربیتی پروگراموں میں سرمایہ کاری کریں جو ملازمین کی تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکیں۔
مختصراً یہ کہ مصنوعی ذہانت کا سفر صرف معلومات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ٹیکنالوجی کو اپنے کام کے عمل میں ضم کرنے کا نام ہے۔ جو کمپنیاں اس فرق کو سمجھیں گی اور صرف مواد سے آگے بڑھ کر عملی تجربات پر توجہ مرکوز کریں گی، وہی آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھ سکیں گی۔ اے آئی مہارتوں کا خلا صرف اس وقت پُر ہوگا جب سیکھنے کے عمل کو کام کی جگہ کی حقیقتوں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔