Technology
بجلی کے بغیر ٹھنڈک: نیا ہسپانوی نینو میٹریل متعارف
ہسپانوی محققین نے ایک نیا نینو میٹریل تیار کیا ہے جو بجلی کے بغیر سطحوں کے درجہ حرارت کو 12.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کر سکتا ہے۔ یہ ایجاد دن کے اوقات میں شعاعی ٹھنڈک (Radiative Cooling) کے اصول پر کام کرتی ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ہسپانوی محققین نے ایک ایسا انقلابی نینو میٹریل تیار کر لیا ہے جو کسی بھی قسم کی برقی توانائی استعمال کیے بغیر سطحوں کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ اس تحقیق کی قیادت فنکشنل نینو اسکیل ڈیوائسز فار انرجی (FINDER) گروپ نے کی ہے اور اس کے نتائج مشہور جریدے 'نینوفوٹونکس' میں شائع کیے گئے ہیں۔ یہ مواد دن کے اوقات میں 'پیسیو ریڈی ایٹو کولنگ' کے اصول پر کام کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ماحول سے گرمی جذب کرنے کے بجائے اسے خلا میں خارج کر دیتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ سطح کے درجہ حرارت کو 12.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عام طور پر عمارتوں اور مشینوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایئر کنڈیشنرز اور دیگر برقی آلات کا استعمال کیا جاتا ہے جو نہ صرف بجلی کا بہت زیادہ خرچ کرتے ہیں بلکہ ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کے اخراج کا بھی باعث بنتے ہیں۔ تاہم یہ نیا ایجاد کردہ مادہ کسی بھی بیرونی توانائی کے بغیر خودکار طریقے سے گرمی کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جس سے مستقبل میں عمارتوں کی تعمیر اور کولنگ سسٹم کے تصورات میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق، اس مواد کا ڈھانچہ روشنی کی شعاعوں کو اس طرح منعکس کرتا ہے کہ وہ سورج کی تپش کو جذب نہیں کرتا بلکہ تھرمل ریڈی ایشن کے ذریعے حرارت کو فضا کی بیرونی تہوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اس عمل کو 'دن کے وقت کی شعاعی ٹھنڈک' کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی پر مزید تجربات جاری ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی مدد سے شہری علاقوں میں درجہ حرارت کو کم رکھنے اور گلوبل وارمنگ کے اثرات کو محدود کرنے میں بڑی کامیابی مل سکتی ہے۔
یہ ایجاد توانائی کے بحران کا شکار دنیا کے لیے ایک امید کی کرن ہے، جہاں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف گھریلو بلکہ صنعتی سطح پر بھی توانائی کے اخراجات کو کم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گی۔ آنے والے وقتوں میں، اس مٹیریل کو عمارتوں کی چھتوں اور بیرونی دیواروں پر لگا کر بجلی کے بھاری بلوں اور کاربن فٹ پرنٹ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے گا۔