World
جائنٹ کاز وے کے قدرتی پتھروں سے 10 ہزار سکے نکال لیے گئے
برطانیہ کے مشہور سیاحتی مقام جائنٹ کاز وے کے قدیم ستونوں میں پھنسے ہوئے دس ہزار سکوں کو ماہرین کی ٹیم نے کامیابی سے نکال لیا ہے۔ یہ سکے سیاحوں کی جانب سے روایتی طور پر پھینکے گئے تھے جس سے پتھریلی چٹانوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
برطانیہ کے مشہور عالمی ثقافتی ورثے اور سیاحتی مقام 'جائنٹ کاز وے' میں ماہرین نے ایک انتہائی محتاط اور صبر آزما کام مکمل کیا ہے جس کے دوران قدرتی چٹانی ستونوں میں پھنسے ہوئے تقریباً 10 ہزار سکوں کو نکالا گیا ہے۔ سیاحوں کی جانب سے خوش قسمتی کی امید میں ان قدیم اور منفرد چٹانی ستونوں کی دراڑوں میں سکے ڈالنے کا یہ عمل طویل عرصے سے جاری تھا، جس کے باعث نہ صرف ان پتھروں کی قدرتی ساخت کو خطرہ لاحق تھا بلکہ ان کی ظاہری شکل و صورت بھی متاثر ہو رہی تھی۔ کنزرویشن ماہرین کے مطابق، ان سکوں کو نکالنا ایک انتہائی مشکل، پیچیدہ اور تھکا دینے والا کام تھا کیونکہ دھاتی سکے چٹانوں کی تنگ دراڑوں میں بہت مضبوطی سے پھنس چکے تھے۔
محکمہ تحفظ آثارِ قدیمہ کے عہدیداران نے بتایا کہ ان سکوں کی موجودگی چٹانوں میں نمی کو روکنے اور پتھروں کے پھیلنے یا سکڑنے کے قدرتی عمل میں رکاوٹ پیدا کر رہی تھی۔ بعض سکوں کی وجہ سے چٹانوں کے کناروں پر دباؤ بڑھ رہا تھا، جس سے ان کے ٹوٹنے یا فرسودہ ہونے کا خدشہ تھا۔ ٹیم نے خصوصی اوزاروں کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایک سکے کو انتہائی احتیاط سے نکالا تاکہ پتھروں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ یہ عمل اس لیے بھی حساس تھا کہ جائنٹ کاز وے کے ستون ارضیاتی اعتبار سے کروڑوں سال پرانے ہیں اور ان کی ساخت میں معمولی سی چوٹ بھی مستقل نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
سیاحتی مقامات پر سکوں کو کنوؤں یا جھیلوں میں پھینکنے کی روایت تو عام ہے، لیکن کسی قدرتی چٹانی ورثے کو اس طرح متاثر کرنا ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں سے گریز کریں کیونکہ یہ قدیم ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک اثاثہ ہے جسے محفوظ رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔ اب جبکہ ان تمام سکوں کو ہٹا دیا گیا ہے، جائنٹ کاز وے کی قدرتی خوبصورتی بحال ہو گئی ہے اور ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ اس عالمی ورثے کو ہر قسم کے انسانی مداخلت سے پاک رکھا جا سکے۔