LIVE
Loading Breaking News...

کے پی پولیس چیف کی تبدیلی: صوبائی حکومت کا اہم فیصلہ

News Image
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صوبے کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کو تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ تبدیلی صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صوبے کے اعلیٰ ترین پولیس افسر یعنی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، صوبائی کابینہ اور اعلیٰ حکومتی قیادت کے درمیان ہونے والی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں امن و امان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور محکمہ پولیس میں انتظامی بہتری لانا ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بعد اب نئے آئی جی پی کے ناموں پر غور و خوض شروع کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد جلد ہی نئے سربراہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خیبر پختونخوا کو دہشت گردی اور دیگر سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ محکمہ پولیس میں نئی حکمت عملیوں کے تحت کام کیا جائے تاکہ جرائم کی روک تھام اور داخلی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ تبدیل ہونے والے پولیس چیف کی کارکردگی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی تھیں، جس کے بعد اس تبدیلی کو ایک ناگزیر اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ اشاروں کے مطابق، نئے تعینات ہونے والے پولیس چیف کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانا، تفتیشی نظام میں شفافیت لانا اور صوبے کے دور دراز علاقوں میں امن و امان کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس تبدیلی کے عمل میں وفاقی وزارت داخلہ کا کردار انتہائی اہم ہوگا کیونکہ صوبائی آئی جی کی تقرری وفاقی حکومت کی منظوری سے مشروط ہوتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ پولیس کے سربراہ کی تبدیلی صوبائی حکومت کی انتظامی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ صوبے کے عوام اور سیاسی جماعتیں بھی اس فیصلے کو پرامید نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں کہ شاید اس تبدیلی کے بعد سکیورٹی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ اب تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کس نام پر اتفاق کرتی ہیں اور نیا پولیس چیف کون ہوگا۔ اس حوالے سے حتمی نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔