Technology
اوبر اور ڈرون ٹیکنالوجی: مستقبل کی ڈیلیوری سروسز کا نیا دور
اوبر نے ڈرون ڈیلیوری فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد مستقبل میں ڈرون کے ذریعے آرڈرز کی ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے تین برسوں میں روزانہ 10 لاکھ ڈرون ڈیلیوریز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
دنیا کی معروف رائیڈ شیئرنگ اور فوڈ ڈیلیوری کمپنی 'اوبر' نے لاجسٹکس کے شعبے میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ڈرون ڈیلیوری فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس اشتراک کا بنیادی مقصد مستقبل میں کھانوں اور دیگر اشیاء کی ترسیل کو ڈرونز کے ذریعے ممکن بنانا ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ ٹریفک کے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔ دونوں کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس منصوبے کے تحت اگلے تین برسوں کے دوران روزانہ 10 لاکھ ڈرون ڈیلیوریز مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم فوڈ ڈیلیوری اور ای کامرس کی صنعت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈرون کے ذریعے ڈیلیوری سے شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں آرڈرز کی ترسیل تیز تر ہوگی اور انسانی وسائل پر انحصار کم ہوگا۔ اوبر کا ماننا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈیلیوری کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، جس کا براہ راست فائدہ صارفین کو سستی سروس کی صورت میں ملے گا۔ کمپنی اس ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر لاگو کرنے کے لیے ریگولیٹری اداروں سے بھی مسلسل رابطے میں ہے۔
تاہم، ڈرون ڈیلیوری کے اس وسیع نیٹ ورک کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ان میں موسم کی خرابی، شہری حدود میں پرواز کی اجازت، اور ڈرونز کی بیٹری لائف جیسے مسائل سرفہرست ہیں۔ اوبر اور اس کی پارٹنر ڈرون کمپنی ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جدید ترین سافٹ ویئر اور خودکار نیویگیشن سسٹمز پر کام کر رہی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈرون ڈیلیوری کا یہ نظام نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز کے علاقوں میں بھی ایک عام سہولت بن جائے گا، جو نقل و حمل اور لاجسٹکس کے روایتی طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا۔