LIVE
Loading Breaking News...

مارک کیوبن کا دولت پر ٹیکس کی مخالفت میں بڑا بیان

News Image
معروف ارب پتی کاروباری شخصیت مارک کیوبن نے کیلیفورنیا میں دولت پر نئے ٹیکسوں کی تجویز پر سخت تنقید کی ہے۔ اس بیان کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ٹیکس پالیسیوں کے حوالے سے گہری تقسیم واضح ہو گئی ہے۔
مشہور امریکی ارب پتی اور کاروباری شخصیت مارک کیوبن نے حال ہی میں کیلیفورنیا میں متعارف کرائی جانے والی دولت پر ٹیکس کی تجاویز پر شدید تنقید کی ہے، جس کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر پالیسیوں کے حوالے سے ایک بڑی بحث چھڑ گئی ہے۔ مارک کیوبن نے اپنے ایک عوامی بیان میں کہا کہ جو اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز ٹیکس کے اس بوجھ کے باوجود کیلیفورنیا میں رہنا جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ حماقت کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان نہ صرف معاشی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہے بلکہ اس نے سیاسی حلقوں میں بھی کھلبلی مچا دی ہے۔ اس تنازعے کی شروعات رکن کانگریس رو کھنہ کے ساتھ ہونے والی ایک بحث کے دوران ہوئی، جہاں ٹیکس کے ڈھانچے پر مختلف آراء کا اظہار کیا گیا۔ مارک کیوبن، جو خود ایک کامیاب سرمایہ کار اور کاروباری شخصیت ہیں، کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بھاری ٹیکسوں سے ریاست میں کاروباری جدت پسندی متاثر ہوگی اور ٹیکس کے سخت قوانین کی وجہ سے بڑی کمپنیاں دوسری ریاستوں کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے نہ کہ بھاری بھرکم ٹیکسوں کا بوجھ، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اس بیان نے ایک گہری دراڑ کو نمایاں کر دیا ہے۔ پارٹی کا ایک دھڑا دولت پر ٹیکس کو سماجی مساوات کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے، جبکہ مارک کیوبن جیسے افراد اسے معاشی خودکشی قرار دے رہے ہیں۔ اس بحث نے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ آیا ڈیموکریٹک پارٹی اپنی ٹیکس پالیسیوں میں تبدیلیاں لائے گی یا کاروباری طبقے کی ناراضی کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات میں یہ ٹیکس پالیسیاں پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ مارک کیوبن کا یہ موقف کہ کیلیفورنیا کے کاروباری ماحول میں تبدیلی کی ضرورت ہے، ان اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز کے لیے ایک انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے جو زیادہ ٹیکسوں کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے معاشی بیانیے میں توازن پیدا نہ کیا تو اسے امیر طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال یہ معاملہ امریکی میڈیا اور بزنس حلقوں میں مسلسل زیر بحث ہے اور اس کے اثرات ریاست کی آئندہ معاشی حکمت عملی پر مرتب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔