LIVE
Loading Breaking News...

اسکاپا فلو کا تباہ شدہ جرمن بیڑا: تابکاری سے پاک سٹیل کا خزانہ

News Image
سال 1919 میں جرمن بحری فوج نے اپنے ہتھیار ڈالنے کے بعد اپنے ہی بحری بیڑے کو اسکاپا فلو میں ڈبو دیا تھا تاکہ وہ اتحادیوں کے ہاتھ نہ لگے۔ ایک صدی بعد، اس ڈوبے ہوئے بیڑے کا سٹیل اپنی تابکاری سے پاک خصوصیات کی وجہ سے سائنسی آلات کی تیاری میں انتہائی قیمتی ثابت ہو رہا ہے۔
پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر، جب جرمنی نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا تو ایک حیران کن اور تاریخی واقعہ پیش آیا۔ 21 جون 1919 کو سکاٹ لینڈ کے ساحل پر واقع 'اسکاپا فلو' (Scapa Flow) میں جرمن بحری فوج کے عملے نے اپنے ہی 52 بحری جہازوں کو سمندر برد کر دیا۔ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا تھا تاکہ فاتح اتحادی طاقتیں ان جدید جنگی جہازوں کو آپس میں تقسیم نہ کر سکیں۔ اس واقعے نے اس وقت عالمی سطح پر ایک بڑی ہلچل مچا دی تھی اور سمندر کی تہہ میں لوہے کا ایک عظیم قبرستان وجود میں آ گیا تھا۔ کئی دہائیوں تک یہ جہاز سمندر کی گہرائیوں میں پڑے رہے اور ان میں سے بیشتر کو بعد میں نکال لیا گیا، تاہم سات بڑے جہاز وہیں سمندر کی تہہ میں موجود رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہ ڈوبے ہوئے جہاز ایک انوکھے سائنسی فائدے کا ذریعہ بن گئے۔ سائنسدانوں اور صنعت کاروں نے دریافت کیا کہ ان جہازوں کا سٹیل انتہائی خاص ہے کیونکہ یہ جوہری دور کے آغاز سے پہلے تیار کیا گیا تھا۔ اس دور میں فضا میں تابکاری یا ریڈیو ایکٹیو مادوں کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا، اس لیے ان جہازوں کا فولاد قدرتی طور پر تابکاری سے مکمل طور پر پاک ہے۔ جدید دور میں انتہائی حساس سائنسی آلات اور ریڈیو میٹرز کی تیاری کے لیے ایسے میٹل کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی بھی قسم کی تابکاری سے پاک ہو۔ آج کے دور میں تیار کردہ سٹیل، ایٹمی تجربات اور فضائی آلودگی کی وجہ سے کچھ حد تک تابکار ہو چکا ہے، جس سے جدید آلات کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے، اسکاپا فلو سے نکالا گیا یہ قدیم جرمن سٹیل طبی آلات، خلاء میں بھیجے جانے والے سینسرز اور جوہری تجربہ گاہوں میں استعمال ہونے والے آلات کی تیاری کے لیے دنیا کا سب سے بہترین اور نایاب مواد سمجھا جاتا ہے۔ ایک صدی بعد، ان جنگی جہازوں کی باقیات اب صرف جنگ کی یادگار نہیں رہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ تاریخ اور سائنس کا ایک ایسا ملاپ ہے جس نے ایک تباہ شدہ جنگی بیڑے کو انسانیت کے لیے ایک قیمتی اثاثے میں بدل دیا ہے۔ یہ دریافت ہمیں بتاتی ہے کہ تاریخ کے پرانے صفحات سے بھی مستقبل کی تعمیر کے لیے کتنے اہم اور غیر متوقع خزانے برآمد کیے جا سکتے ہیں۔