LIVE
Loading Breaking News...

سیج پبلشنگ: پیئر ریویو میں بے ضابطگیوں پر درجنوں مقالے مسترد

News Image
بین الاقوامی پبلشنگ کمپنی سیج نے حال ہی میں آئی او ایس پریس سے حاصل کردہ دو جریدوں سے درجنوں تحقیقی مقالے واپس لے لیے ہیں۔ یہ اقدام پیئر ریویو کے عمل میں ہیرا پھیری اور سنگین خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ پبلشنگ کمپنی سیج (Sage) نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے دو علمی جریدوں سے درجنوں تحقیقی مقالے واپس لے لیے ہیں۔ یہ جریدے کمپنی نے 2023 میں 'آئی او ایس پریس' (IOS Press) سے حاصل کیے تھے، اور ان میں موجود مواد پر اٹھنے والے سوالات کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ سیج انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان مقالوں کی منسوخی کی بنیادی وجہ پیئر ریویو (peer review) کے عمل میں پائی جانے والی ہیرا پھیری اور اس حوالے سے پائے جانے والے شدید خدشات ہیں۔ واضح رہے کہ علمی تحقیق میں 'پیئر ریویو' کا مرحلہ کسی بھی مقالے کی ساکھ اور درستگی جانچنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیج کی جانب سے پہلی بڑی کھیپ 15 جولائی کو واپس لی گئی، جس کے بعد مسلسل چھان بین جاری ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے معیار اور علمی دیانت داری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ تحقیقاتی عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ مقالوں میں پیئر ریویو کے نظام کو غیر قانونی طریقے سے متاثر کیا گیا، جس سے ان مقالوں کی مجموعی ساکھ مشکوک ہو گئی تھی۔ یہ واقعہ عالمی تعلیمی اور تحقیقی برادری کے لیے ایک بڑا انتباہ ہے کہ کس طرح کچھ عناصر علمی اشاعت کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سیج انتظامیہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے کسی بھی عمل کے خلاف سخت کارروائی کرے گی جو علمی معیارات کے منافی ہو۔ کمپنی نے ان جریدوں کے انتظام کو بہتر بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے نئے سیکیورٹی پروٹوکولز بھی متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علمی اشاعت کے اداروں کی جانب سے اس طرح کی خود احتسابی کا عمل تحقیق کی دنیا میں اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ فی الحال ان مقالوں کی واپسی کے بعد پورے عمل کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ بے ضابطگیاں صرف ان دو جریدوں تک محدود تھیں یا اس کا دائرہ کار وسیع تر ہے۔ تعلیمی حلقے اس پیش رفت کو علمی شفافیت کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ جعلی یا ہیرا پھیری سے تیار کردہ تحقیقی مواد کی علمی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔