LIVE
Loading Breaking News...

بلاک ڈی اے جی پری سیل اور کرپٹو مارکیٹ اپڈیٹس

News Image
بلاک ڈی اے جی نے اپنی پری سیل کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے 'کریب ٹو کریکن' رینکنگ سسٹم متعارف کروا دیا ہے۔ دوسری جانب کاسپا اور کوسموس کے نرخوں میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی عالمی منڈی میں بلاک ڈی اے جی (BlockDAG) نے اپنے پری سیل ماڈل میں ایک انقلابی تبدیلی متعارف کروا دی ہے۔ کمپنی کی جانب سے 'کریب ٹو کریکن' (Crab-to-Kraken) رینکنگ سسٹم کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد ابتدائی سرمایہ کاروں کو متحرک کرنا ہے۔ اس نئے گیمفائیڈ نظام کے تحت سرمایہ کاروں کو مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے، جس سے پری سیل کے دوران ایکٹیو ممبرز کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ فی الحال اس کا پہلا مرحلہ 0.00002 ڈالر کی ابتدائی قیمت پر جاری ہے، جسے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے کافی توجہ مل رہی ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف نئے صارفین کو راغب کر رہی ہے بلکہ پروجیکٹ کے طویل مدتی اہداف کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔ دوسری جانب کرپٹو مارکیٹ میں دیگر اہم کوائنز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کاسپا (Kaspa) فی الحال 0.027 ڈالر کی سطح پر مستحکم دکھائی دیتا ہے۔ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے باوجود کاسپا نے اپنی قیمت کو برقرار رکھا ہے، جو کہ اس کے بنیادی نیٹ ورک کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح کوسموس (Cosmos) کی قیمت بھی 1.48 ڈالر کے قریب مستحکم ہے، جس سے مارکیٹ کے ماہرین یہ قیاس کر رہے ہیں کہ سرمایہ کار محتاط انداز میں اپنے اثاثوں کا انتظام کر رہے ہیں۔ یہ استحکام ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ایک طرف نیا جوش ہے تو دوسری طرف پرانے اور مستحکم کوائنز پر اعتماد اب بھی قائم ہے۔ ماہرین کے مطابق بلاک ڈی اے جی کا یہ نیا ماڈل سرمایہ کاری کو ایک نئے مرحلے پر لے کر جائے گا، جہاں گیمنگ اور فنانس کا امتزاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 'کریکن ٹائر' (Kraken Tier) تک رسائی حاصل کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں پری سیل کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اگرچہ کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری ہمیشہ خطرات سے مشروط ہوتی ہے، لیکن بلاک ڈی اے جی کی جانب سے پیش کردہ یہ جدید طریقہ کار اسے دیگر پروجیکٹس سے ممتاز بناتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور پروجیکٹ کے وائٹ پیپر کا بغور مطالعہ ضرور کریں۔