Politics
بہاولپور اور ہزارہ صوبہ سازی: قانون سازی کا عمل اگلے ماہ شروع ہوگا
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے اور حکومت کو بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے لیے قانون سازی کا مطالبہ درپیش ہے۔ رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبوں کی بحالی اور قیام کے لیے بل اگلے ماہ پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔
پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے قیام کے حوالے سے بل اگلے ماہ پارلیمان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ قدم انتظامی بہتری اور عوام کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے، جس کے تحت طویل عرصے سے زیر التوا ان مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کو مسترد کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ سینئر رہنماؤں اور پارٹی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ صوبائی خود مختاری اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں، جبکہ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد میں ہونا ضروری ہے۔ تحریکِ انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات اور حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے قانونی پہلوؤں پر بھی بحث زوروں پر ہے۔ بعض اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلی کو صوبوں کی تشکیل جیسے حساس معاملے پر قانون سازی کا مینڈیٹ حاصل ہے یا نہیں، اس پر قانونی ماہرین کی رائے اہم ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ صوبوں کا قیام ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے، تاہم عوامی دباؤ اور علاقائی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ماہ پیش ہونے والا یہ بل ایوان سے کس حد تک حمایت حاصل کر پاتا ہے اور ملکی سیاسی منظرنامے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔