World
غزہ میں قیام امن کی کوششیں، نئے ورکنگ گروپس کا غیر مسلح کاری پر زور
غزہ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے نئے ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں جن کا بنیادی مقصد غیر مسلح کاری اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس اقدام کو تنازعہ کے حل کی جانب ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
غزہ کی پٹی میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور انسانی بحران کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر نئی کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں 'ورکنگ گروپس' کا قیام سر فہرست ہے۔ ان ورکنگ گروپس کا بنیادی ایجنڈا علاقے کی غیر مسلح کاری اور وہاں کے شہریوں تک انسانی امداد کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے ان اقدامات کو امن کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق بدستور پیچیدہ بنے ہوئے ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ اور دیگر فریقین کی جانب سے متحرک سفارت کاری دیکھنے میں آئی ہے۔ جیرڈ کشنر اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں غزہ کے لیے امن منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ ان مذاکرات کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اب تک کسی بھی بڑی کامیابی یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہو سکا ہے جس سے تنازعہ کے مکمل حل کی امیدیں وابستہ کی جا سکیں۔
دوسری جانب حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے ساتھ بالواسطہ یا براہ راست رابطے بھی اس نئی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ورکنگ گروپس غیر مسلح کاری کے معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ خطے میں ایک نئی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ انسانی امداد کا بحران، جو کہ غزہ کے لاکھوں افراد کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے، اس پورے امن عمل کی کامیابی کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہے۔
مستقبل قریب میں مزید دوروں اور مذاکرات کی توقع کی جا رہی ہے جن میں مصر اور دیگر علاقائی ممالک بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ عالمی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صرف عسکری حل ہی کافی نہیں، بلکہ سیاسی اور انسانی بنیادوں پر مستقل قیامِ امن کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ ورکنگ گروپس اسی سمت میں ایک کٹھن مگر ضروری سفر کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ فریقین اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر شہریوں کی زندگیوں کو ترجیح دیں۔