LIVE
Loading Breaking News...

امریکی شرح سود اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی: معاشی ماہرین کی پیش گوئی

News Image
رائٹرز کے حالیہ سروے کے مطابق امریکی ماہرین معاشیات کا متفقہ خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو رواں سال کے دوران شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا۔ زیادہ شرح سود کے باعث امریکی صارفین پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رائٹرز کے ایک حالیہ سروے کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی معاشی ماہرین کا اکثریت کے ساتھ یہ ماننا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو رواں سال کے دوران شرح سود کو موجودہ سطح پر ہی برقرار رکھے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو فی الحال مالیاتی پالیسی میں نرمی کرنے کے حق میں نہیں ہے، کیونکہ معاشی اشاریے اسے فی الحال اجازت نہیں دیتے۔ یہ رائے ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی منڈیوں میں فیڈرل ریزرو کے اگلے اقدامات کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں، لیکن سروے میں شامل ماہرین اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس پالیسی کا سب سے بڑا اثر امریکی صارفین پر پڑ رہا ہے، جنہیں طویل عرصے تک مہنگے قرضوں اور بلند شرح سود کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ شرح سود کو طویل عرصے تک اونچی سطح پر رکھنے کا مقصد افراط زر پر قابو پانا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں صارفین کی قوت خرید متاثر ہو رہی ہے۔ کریڈٹ کارڈز، رہن اور گاڑیوں کے قرضوں پر زیادہ سود کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے اپنے مالی معاملات کو سنبھالنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب مالیاتی منڈیوں میں بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ کچھ حلقوں کی جانب سے ستمبر میں شرح سود میں تبدیلی کی توقعات کا اظہار کیا گیا تھا، لیکن اکثریت اسے غیر متوقع قرار دے رہی ہے۔ ٹریڈنگ پلیٹ فارمز پر بھی تجزیہ کار فیڈرل ریزرو کی موجودہ پالیسی کے تسلسل کو ہی سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ معیشت میں بہتری کے کچھ آثار موجود ہیں، تاہم افراط زر کا ہدف تاحال فیڈرل ریزرو کی ترجیح اول ہے، جس کی وجہ سے شرح سود میں کٹوتی کا فوری امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ پیش گوئی بھی کی جا رہی ہے کہ جب تک افراط زر کی شرح فیڈرل ریزرو کے مطلوبہ ہدف کے قریب نہیں پہنچ جاتی، اس وقت تک کسی بھی بڑی تبدیلی کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں اور پالیسی بیانات پر گہری نظر رکھیں کیونکہ یہ فیصلے نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔