World
لیویز فورس: تاریخی پس منظر، انتظامی کردار، بھرتیوں پر اعتراضات اور اصلاحات کی ضرورت
لیویز فورس: تاریخی پس منظر، انتظامی کردار، بھرتیوں پر اعتراضات اور اصلاحات کی ضرورت
ایک تحقیقی جائزہ
تحریر: جہانزیب بلوچ
تاریخی پس منظر
بلوچستان میں لیویز فورس کا قیام برطانوی دورِ حکومت میں 1883ء میں عمل میں آیا۔ برطانوی انتظامیہ نے اس فورس کو ایسے علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے تشکیل دیا جہاں جغرافیائی مشکلات، قبائلی نظام اور دور دراز آبادیوں کی وجہ سے روایتی پولیس نظام مؤثر طور پر کام نہیں کر سکتا تھا۔
لیویز فورس کی بنیادی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں مقامی افراد کو شامل کیا جاتا تھا، کیونکہ وہ علاقے کے جغرافیہ، قبائلی روایات، زبانوں اور سماجی حالات سے واقف ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے بلوچستان کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں لیویز فورس کو انتظامی نظام کا اہم حصہ سمجھا جاتا رہا۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی بلوچستان میں لیویز فورس مختلف اضلاع میں امن و امان، سرکاری تنصیبات کے تحفظ، راستوں کی نگرانی اور انتظامیہ کے معاون ادارے کے طور پر کام کرتی رہی۔
آئینی اور قانونی حیثیت
پاکستان میں امن و امان کا نظام بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ بلوچستان میں لیویز فورس صوبائی قوانین اور حکومتی قواعد و ضوابط کے تحت کام کرتی ہے۔ اس کا مقصد قانون کی عملداری، شہریوں کا تحفظ اور ریاستی رٹ کو مضبوط کرنا ہے۔
ایک جدید ریاست میں کسی بھی سکیورٹی ادارے کی کامیابی کا انحصار تین بنیادی اصولوں پر ہوتا ہے:
میرٹ پر بھرتی
قانونی احتساب
سیاسی دباؤ سے آزادی
اگر ان اصولوں میں کمزوری پیدا ہو تو کسی بھی ادارے کی کارکردگی اور عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
بھرتیوں اور میرٹ سے متعلق اعتراضات
وقتاً فوقتاً بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری ملازمتوں کی بھرتیوں کے حوالے سے عوامی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ضلع نوشکی کے حوالے سے بھی بعض مقامی حلقوں کا مؤقف رہا ہے کہ لیویز فورس کی بعض بھرتیوں میں مقامی مستقل آبادی، قبائلی کوٹے اور میرٹ کے اصولوں پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
بعض افراد کا کہنا ہے کہ مقامی اہل امیدواروں کے مقابلے میں ایسے امیدواروں کو ترجیح دی گئی جنہیں وہ علاقے کا مستقل باشندہ نہیں سمجھتے۔ اس طرح کے اعتراضات کی حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہے کہ بھرتیوں کے ریکارڈ، ڈومیسائل، لوکل سرٹیفکیٹ اور میرٹ لسٹ کا شفاف طریقے سے جائزہ لیا جائے۔
ریاستی اداروں میں بھرتیوں کا مقصد کسی خاص گروہ یا فرد کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ اہل، ایماندار اور قابل افراد کو ذمہ داری دینا ہونا چاہیے۔
سیاسی اثر و رسوخ اور انتظامی مسائل
لیویز فورس کے حوالے سے ایک اہم بحث سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں بھی رہی ہے۔ بعض ادوار میں تقرریوں، تبادلوں اور اہم مقامات پر تعیناتیوں میں سیاسی یا انتظامی مداخلت کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
بعض حلقے یہ بھی الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ ماضی میں بعض چیک پوسٹوں پر تعیناتیوں کے معاملات شفاف نہیں رہے اور اختیارات کے غلط استعمال کے خدشات پیدا ہوئے۔ تاہم ایسے الزامات کی حتمی حقیقت کا تعین آزادانہ تحقیقات، سرکاری ریکارڈ اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
کسی بھی ادارے کے چند افراد کی ممکنہ غلطیوں کو پورے ادارے کی کارکردگی کا معیار نہیں بنایا جا سکتا، لیکن شکایات کی صورت میں مؤثر احتساب ضروری ہے۔
سیاسی اور قبائلی رہنماؤں کی حمایت
یہ سوال بھی اہم ہے کہ بعض سیاسی اور قبائلی رہنما آج بھی لیویز فورس کی حمایت کیوں کرتے ہیں۔
حامیوں کے مطابق لیویز فورس مقامی حالات سے واقف ہونے، عوام سے رابطے اور قبائلی علاقوں میں انتظامی رسائی کی وجہ سے ایک مؤثر ادارہ ہے۔ ان کے نزدیک مقامی افراد پر مشتمل فورس علاقے کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے۔
جبکہ ناقدین کا خیال ہے کہ ادارے کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ، لیکن جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اس میں اصلاحات، تربیت، نگرانی اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اصلاحات کی ضرورت
بلوچستان میں امن و امان کے بہتر نظام کے لیے لیویز فورس میں درج ذیل اصلاحات ضروری ہیں:
بھرتیوں کا مکمل طور پر میرٹ پر ہونا۔
ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کی شفاف جانچ۔
سیاسی مداخلت کا خاتمہ۔
اہلکاروں کے لیے جدید تربیت کا انتظام۔
اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام۔
عوامی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا۔
ہر سطح پر احتساب کو یقینی بنانا۔
نتیجہ
لیویز فورس بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم ادارہ ہے جس نے طویل عرصے تک امن و امان کے قیام میں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ہر ادارے کو خود کو بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک مضبوط اور عوام دوست لیویز فورس وہی ہو سکتی ہے جو قانون، میرٹ، شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر قائم ہو۔ بلوچستان کے عوام کا اعتماد اسی وقت بحال ہوگا جب ریاستی ادارے سیاسی یا ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف عوامی خدمت اور قانون کی بالادستی کو اپنا مقصد بنائیں گے۔