Entertainment
ہیڈن پینیٹیئر کی کتاب کی قیمتوں میں تنازع، بارنس اینڈ نوبل پر تنقید
معروف اداکارہ ہیڈن پینیٹیئر کی اچانک وفات کے بعد معروف بک سٹور چین بارنس اینڈ نوبل کو ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کی قیمت بڑھانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مداحوں اور قارئین کی جانب سے اس عمل کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قیمتیں دوبارہ کم کی جائیں۔
مشہور ہالی وڈ اداکارہ ہیڈن پینیٹیئر کی اچانک موت کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جس میں معروف امریکی کتابوں کی چین 'بارنس اینڈ نوبل' کو شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اور قارئین کی جانب سے یہ شکایت کی جا رہی ہے کہ اداکارہ کی وفات کے بعد ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کی قیمتوں میں یکدم اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کتاب اداکارہ کی زندگی کے دوران رعایت پر دستیاب تھی، لیکن ان کی وفات کی خبر آتے ہی اس کی قیمت دوبارہ اپنے اصل نرخوں پر پہنچ گئی یا اس سے بھی بڑھا دی گئی، جس سے مداحوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مداحوں اور کتاب پڑھنے کے شوقین افراد کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ یہ ایک فنکار کی وفات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کاروباری اداروں کو کسی کی موت کو اپنی منافع خوری کا ذریعہ بنانا چاہیے؟ بہت سے صارفین نے بارنس اینڈ نوبل کے آفیشل ہینڈلز کو ٹیگ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کتاب کی قیمت کو دوبارہ کم کیا جائے تاکہ ان کے چاہنے والے آسانی سے اسے خرید کر اداکارہ کو خراجِ تحسین پیش کر سکیں۔
اس معاملے پر ابھی تک بارنس اینڈ نوبل کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ عام طور پر ریٹیل اسٹورز میں قیمتوں کا تعین خودکار الگورتھمز کے ذریعے ہوتا ہے، تاہم اخلاقی طور پر اس قسم کے حساس مواقع پر قیمتوں میں تبدیلی کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ یہ واقعہ انٹرنیٹ کے دور میں ڈیجیٹل ریٹیلنگ اور اخلاقیات کے درمیان ہونے والے تصادم کی ایک نئی مثال بن گیا ہے۔
اداکارہ ہیڈن پینیٹیئر کی زندگی کے نشیب و فراز پر مبنی یہ کتاب مداحوں کے لیے جذباتی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کی اچانک وفات کے بعد، شائقین ان کی کتاب کے ذریعے ان کی زندگی کو قریب سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں قیمتوں کا یہ تنازعہ کتاب کی مقبولیت پر اثر انداز ہونے کے بجائے کمپنی کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا انتظامیہ اس عوامی مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے قیمتوں میں کوئی رعایت کا اعلان کرتی ہے یا نہیں۔