Health
بیریٹرک سرجری کے مریضوں کے لیے ایمائلکس کی دوا کے حیران کن نتائج
طبی تحقیقات کے مطابق ایمائلکس کی تیار کردہ نئی دوا بیریٹرک سرجری کروانے والے مریضوں میں خون میں شوگر کی اچانک کمی کے واقعات کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔ یہ دوا ان مریضوں کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے جو آپریشن کے بعد گلوکوز کے عدم توازن کا شکار رہتے ہیں۔
طبی دنیا میں ایک نمایاں پیش رفت کے دوران ایمائلکس (Amylyx) نامی بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی نے ایک ایسی دوا کے نتائج جاری کیے ہیں جو بیریٹرک سرجری (پیٹ کا آپریشن) کروانے والے مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح میں اچانک کمی یعنی ہائپوگلیسیمیا کے واقعات کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ آپریشن کے بعد بہت سے مریضوں کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں کھانا کھانے کے بعد جسم میں انسولین کا اخراج غیر متوازن ہو جاتا ہے اور شوگر کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ نئی دوا مریضوں کے میٹابولزم کو بہتر بنانے اور شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیریٹرک سرجری کے بعد جب مریض کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے تو ان کے جسمانی افعال میں بھی تبدیلی آتی ہے، جس کی وجہ سے شوگر کی سطح میں اتار چڑھاؤ معمول بن جاتا ہے۔ ایمائلکس کی یہ دوا نہ صرف مریضوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ انہیں ہنگامی طبی امداد کی ضرورت سے بھی بچا سکتی ہے۔
کلینیکل ٹرائلز کے دوران اس دوا کے استعمال سے مریضوں میں دیکھا گیا کہ ان کے خون میں گلوکوز کی سطح ایک محفوظ رینج کے اندر رہتی ہے اور انہیں سرجری کے طویل مدتی سائیڈ ایفیکٹس کا کم سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹروں نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ فی الحال ایسے مریضوں کے لیے علاج کے محدود آپشنز موجود ہیں۔ اس نئی دوا کی تیاری کے بعد اب طبی ماہرین کو امید ہے کہ بیریٹرک سرجری کے خواہشمند مریضوں کے لیے خطرات کم ہو جائیں گے اور وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنی صحت پر توجہ دے سکیں گے۔
فی الحال یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے نتائج اتنے حوصلہ افزا ہیں کہ عالمی سطح پر طبی حلقوں میں اس دوا کو ایک نئی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آئندہ آنے والے وقت میں مزید وسیع پیمانے پر ٹرائلز کے ذریعے اس دوا کی افادیت کو مزید واضح کیا جائے گا تاکہ اسے عام مریضوں کے استعمال کے لیے مارکیٹ میں لایا جا سکے اور صحت عامہ کے اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔