Technology
جدید تھری ڈی پرنٹڈ ایم آر آئی سینسرز کی ٹیکنالوجی
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے ماہرین نے تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے جدید ایم آر آئی سینسرز تیار کر لیے ہیں جو مریض کی جسمانی ساخت کے مطابق ڈھل سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے طبی معائنے کے عمل کو آسان اور زیادہ درست بنائے گی۔
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (USC) کے سائنسدانوں نے طبی تشخیص کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے حسب ضرورت تیار کیے جانے والے تھری ڈی پرنٹڈ ایم آر آئی سینسرز متعارف کروائے ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجی طبی آلات کی دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اب تک ایم آر آئی مشینیں ایک مخصوص حجم اور ساخت کی ہوتی تھیں، جس کی وجہ سے مریض کو ان کے مطابق ایڈجسٹ ہونا پڑتا تھا۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے موجودہ بڑی اور بھاری بھرکم مشینیں استعمال کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا تھا، لیکن یہ نئی ایجاد مریض کی جسمانی ساخت کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
محققین کے مطابق، اس نئی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خوبی اس کی لچک اور تیز رفتار تیاری ہے۔ روایتی ایم آر آئی ہارڈ ویئر بہت سخت اور غیر لچکدار ہوتے ہیں، لیکن تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے تیار کردہ یہ نئے سینسرز مریض کے جسم کے مخصوص اعضاء کے قریب ترین رہ کر تصویر کشی کرنے کے قابل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ڈاکٹرز مریض کو مشین کے مطابق ڈھالنے کے بجائے، مشین کو مریض کی ضروریات کے مطابق ترتیب دے سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت خاص طور پر ان چھوٹے بچوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے جنہیں بار بار طبی ٹیسٹ اور اسکیننگ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ درست تشخیص کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اس ٹیکنالوجی کے طبی فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے معاشی اثرات بھی دور رس ہوں گے۔ تھری ڈی پرنٹنگ کی وجہ سے ان سینسرز کی تیاری کی لاگت میں کافی کمی آئے گی، جس سے ہسپتالوں کے لیے اپنی طبی سہولیات کو جدید تر بنانا آسان ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، یہ سینسرز زیادہ درست اور واضح امیجنگ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مدد ملے گی۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایجاد مستقبل میں بچوں کے علاج کے طریقہ کار کو بدل کر رکھ دے گی اور اسکیننگ کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو کافی حد تک کم کر دے گی۔ اس منصوبے پر مزید تحقیق جاری ہے تاکہ اسے بڑے پیمانے پر کلینیکل استعمال کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔