LIVE
Loading Breaking News...

جان اوسوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان لفظی جنگ، نٹالی ہارپ کا ذکر

News Image
جارجیا کے سینیٹر جان اوسوف کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی معاون نٹالی ہارپ پر کی گئی تنقید نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس بیان کے بعد ٹرمپ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے جس نے اوسوف کو قومی سطح پر مرکز نگاہ بنا دیا ہے۔
جارجیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف نے اپنی حالیہ انتخابی مہم اور سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کو اتنی مہارت سے استعمال کیا ہے کہ وہ قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ان کی شہرت میں اس وقت غیر معمولی اضافہ ہوا جب انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی ساتھی اور معاون نٹالی ہارپ کے بارے میں ایک سخت تبصرہ کیا۔ سینیٹر اوسوف کی جانب سے کیا گیا یہ تبصرہ بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے انتہائی ناگوار ثابت ہوا اور اس نے ٹرمپ کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل کو جنم دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جان اوسوف نے نہایت سوچ سمجھ کر اپنے اہداف کا انتخاب کیا ہے۔ ٹرمپ کے حامی جہاں اس بیان کو ایک اشتعال انگیزی قرار دے رہے ہیں، وہیں اوسوف کے حامیوں کا خیال ہے کہ انہوں نے اپنے حریفوں کے حلقوں میں دراڑ ڈالنے کے لیے ایک کامیاب حکمت عملی اپنائی ہے۔ جان اوسوف کی اپنی تقاریر میں جس طرح کے طنزیہ اور تیز لہجے کا استعمال کیا گیا ہے، اس نے ریپبلکن کیمپ میں خاصی بے چینی پیدا کر دی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کی تقاریر کے کلپس وائرل ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے قریبی ساتھیوں کے حوالے سے ایسا ردعمل ظاہر کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اوسوف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جان اوسوف کی سیاست کرنے کا یہ منفرد انداز انہیں دیگر ڈیموکریٹک رہنماؤں سے ممتاز کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ لفظی جنگ محض ایک عارضی تنازعہ ثابت ہوتی ہے یا پھر اس کے اثرات صدارتی انتخابات کے تناظر میں مزید گہرے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال نے جارجیا کی سیاست کو ایک بار پھر گرما دیا ہے۔ جہاں اوسوف اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں ٹرمپ کی جانب سے ان پر جوابی وار کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقابلہ اب سخت مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ جان اوسوف کا یہ قدم جہاں ان کی عوامی مقبولیت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے، وہیں یہ ٹرمپ کے مداحوں میں ان کے خلاف نفرت کے بیانیے کو بھی ہوا دے رہا ہے، جس کے نتائج مستقبل قریب میں نمایاں ہوں گے۔