LIVE
Loading Breaking News...

اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ اور ٹرمپ کی سخت دھمکی

News Image
اردن میں امریکی فورسز کے اڈوں پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی شدید ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو عبرت ناک شکست دینے کی دھمکی دی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اس وقت ایک نیا اور خطرناک موڑ آ گیا جب اردن میں موجود امریکی فورسز کو براہ راست ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاهو اور امریکی رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقاتیں جاری تھیں، جن میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس حملے کے بعد دونوں اتحادیوں کے درمیان عسکری تعاون اور حکمت عملی کو مزید مربوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ حملے کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کو اس اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی فورسز یا ان کے اتحادیوں نے امریکی اثاثوں کو مزید نشانہ بنانے کی کوشش کی تو تہران کو تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی انتظامیہ نے اس واقعے کو خطے کے امن کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے اپنی دفاعی تیاریوں کو انتہائی ہنگامی سطح پر بلند کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی عراق اور خطے کے دیگر حصوں میں بھی مبینہ طور پر امریکی اور سعودی فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازع اب ایک وسیع تر علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سی این این، الجزیرہ اور واشنگٹن پوسٹ سمیت تمام بڑے میڈیا نیٹ ورکس اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے خطے کا سب سے بڑا بحران قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے عالمی معیشت اور توانائی کے ذخائر پر بھی منڈلاتے ہوئے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ دنیا کو ایک اور بڑی جنگ کے تباہ کن اثرات سے بچایا جا سکے۔ تاہم، زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔