LIVE
Loading Breaking News...

میموری چپ سیکٹر میں تیزی، عالمی مارکیٹ میں بڑی کمپنیوں کے شیئرز اوپر

News Image
عالمی اسٹاک مارکیٹ میں میموری چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں روز بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔ مائکرون ٹیکنالوجی اور ایس کے ہائنکس جیسی بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ میموری چپ اور ڈیٹا اسٹوریج بنانے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پیر کے روز مسلسل پانچویں کاروباری سیشن کے دوران ان کمپنیوں کے شیئرز نے ایک مرتبہ پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایک بار پھر اعتماد بحال ہو رہا ہے اور سرمایہ کار طویل مدتی فوائد کے لیے ان کمپنیوں کے حصص کی خریداری میں تیزی دکھا رہے ہیں۔ اس تیزی کے دوران مائکرون ٹیکنالوجی (Micron Technology)، سین ڈسک (Sandisk) اور ایس کے ہائنکس (SK Hynix) جیسی بڑی کمپنیوں کے حصص کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں کے شیئرز میں آنے والی یہ مثبت لہر اس بات کا اشارہ ہے کہ ڈیٹا اسٹوریج اور میموری چپس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے میموری چپس کی طلب کو عالمی سطح پر مزید بڑھا دیا ہے جس کے اثرات براہ راست اسٹاک مارکیٹ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے میموری چپ اور ڈیٹا اسٹوریج کے شعبوں میں دوبارہ سرمایہ کاری کا رجحان دراصل اس شعبے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ماضی میں ان اسٹاکس میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم موجودہ سیشنز میں جس طرح کی پائیدار تیزی دیکھی گئی ہے، اس نے مارکیٹ کے مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز میں دوبارہ اس سیکٹر کی طرف لوٹ رہے ہیں کیونکہ انہیں مستقبل میں میموری چپس کے شعبے سے منافع بخش نتائج کی توقع ہے۔ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہتا ہے تو امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی انڈیکس میں مزید بہتری آئے گی۔ تاہم، ماہرین یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ عالمی سطح پر چپ سازی کی صنعت نہ صرف ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ عالمی معیشت میں بھی اس کا کردار کلیدی بن چکا ہے۔