LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈیوں پر اثرات: امریکہ-ایران معاہدے کی ناکامی سے تیل مہنگا اور بانڈ یلڈز بلند

News Image
امریکہ اور ایران کے مابین کسی ممکنہ جوہری معاہدے کی امیدیں ماند پڑنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی اقدامات اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں اور بانڈ یلڈز میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
عالمی سطح پر جاری مالیاتی غیر یقینی صورتحال میں اس وقت مزید شدت آگئی ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین جوہری معاہدے کی بحالی کی امیدیں دم توڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور حکومتی بانڈز پر مرتب ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ رہا ہے، جس کا اثر عالمی سپلائی چین پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ تیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں یا خطے میں کشیدگی کے خدشات تیل کی سپلائی کو محدود کر سکتے ہیں، جس سے پہلے سے ہی مہنگائی کے شکار عالمی بازاروں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ سفارتی تعطل طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو ایندھن کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جو دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت کو متاثر کریں گی۔ دوسری جانب مالیاتی منڈیوں میں امریکی حکومتی بانڈز کی پیداوار یعنی بانڈ یلڈز میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی اس سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر مرکزی بینکوں کو اپنی مانیٹری پالیسیوں میں تبدیلیاں لانا پڑ سکتی ہیں۔ جب جغرافیائی سیاسی حالات پیچیدہ ہوتے ہیں تو سرمایہ کار اکثر محفوظ اثاثوں کی طرف بھاگتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کا کوئی واضح حل نہیں نکلتا، تب تک عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا کوئی نیا سفارتی راستہ نکلتا ہے یا کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں پر بھی پڑ رہا ہے جنہیں درآمدی ایندھن اور مہنگی قرض کی شرحوں کے دوہرے چیلنجز کا سامنا ہے۔